حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے مردوں میں نظامِ ہاضمہ سے متعلق مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں بال جھڑنے کی شکایات بھی ملک میں سب سے زیادہ سامنے آرہی ہیں۔ ایک تازہ قومی سروے میں یہ تشویشناک انکشاف کیا گیا ہے، جس نے شہری طرزِ زندگی اور غیرصحت بخش عادات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ہیئر کیئر برانڈ Traya Health کی جانب سے کیے گئے “نیشنل گٹ-ہیئر ہیلتھ سروے” کے مطابق تلنگانہ میں مردوں کی گٹ ہیلتھ یعنی نظامِ ہاضمہ کی صحت گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں طور پر خراب ہوئی ہے۔ یہ سروے دسمبر 2024 سے دسمبر 2025 کے درمیان ملک بھر کے تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار مردوں پر کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں تلنگانہ میں اچھی گٹ ہیلتھ رکھنے والے مردوں کی شرح 19.13 فیصد تھی، جو 2025 میں کم ہو کر صرف 15.03 فیصد رہ گئی۔ اس طرح 4.10 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو ملک کی تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس فہرست میں راجستھان دوسرے اور دہلی تیسرے مقام پر ہیں۔
ماہرین کے مطابق تیزی سے بدلتا شہری طرزِ زندگی، آئی ٹی سیکٹر کا دباؤ، بے وقت کھانا، فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ غذاؤں کا بڑھتا استعمال اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے نوجوان کام کے دباؤ کی وجہ سے وقت پر کھانا نہیں کھاتے، پانی کم پیتے ہیں اور مسلسل ذہنی تناؤ میں رہتے ہیں، جس سے نظامِ ہاضمہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب نظامِ ہاضمہ کمزور ہو جاتا ہے تو جسم کو ضروری غذائی اجزاء جیسے آئرن، زنک اور وٹامنز مناسب مقدار میں نہیں مل پاتے۔ یہی غذائی کمی بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتی ہے اور بال جھڑنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔
سلونی آنند نے کہا کہ تلنگانہ کے اعداد و شمار ایک سنگین انتباہ ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق صرف شیمپو اور تیل سے اس مسئلے کا حل ممکن نہیں بلکہ لوگوں کو اپنی غذا، نیند، ورزش اور روزمرہ عادات میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
ماہرین نے نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متوازن غذا، زیادہ پانی، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ نظامِ ہاضمہ اور بالوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔


