میسور (دکن فائلز) عوامی مقامات پر پیشاب کرنے کی بری عادت کے خاتمے کے لیے کرناٹک کے شہر Mysuru میں میونسپل کارپوریشن نے ایک منفرد اور دلچسپ مہم شروع کی ہے، جسے سوشل میڈیا پر بھی خوب سراہا جا رہا ہے۔ شہری انتظامیہ نے اُن مقامات پر پالش شدہ اسٹین لیس اسٹیل کے بڑے آئینے نصب کیے ہیں جہاں لوگ عموماً سڑک کنارے یا دیواروں پر پیشاب کرتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ شہر میں عوامی بیت الخلاء موجود ہیں، اس کے باوجود کئی افراد خاص طور پر بھیڑ بھاڑ والے علاقوں، بس اسٹینڈز اور دیواروں کے کنارے پیشاب کرتے تھے، جس کے باعث بدبو، گندگی اور راہگیروں کو شدید دشواریوں کا سامنا رہتا تھا۔
اسی مسئلے کے حل کے لیے میسور سٹی کارپوریشن نے شہر کے مضافاتی بس اسٹینڈ کے قریب تقریباً 85 میٹر لمبا اور چار فٹ اونچا اسٹین لیس اسٹیل کا آئینہ نصب کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئینے میں خود کو دیکھ کر لوگوں میں ایک نفسیاتی جھجھک اور احساسِ شرمندگی پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ وہاں پیشاب کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
اس منصوبے کے تصور کے پیچھے میسورو سٹی کارپوریشن کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر محمد مصطفیٰ کا اہم کردار بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ٹریفک موڑوں پر نصب عکاس آئینوں سے متاثر ہوکر یہی تکنیک صفائی مہم میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
حکام کے مطابق اسٹیل شیٹس کو مضبوط کنکریٹ سپورٹ کے ساتھ دیواروں پر نصب کیا گیا ہے، جبکہ رات کے وقت نگرانی اور شرپسندی سے بچاؤ کے لیے ایل ای ڈی لائٹس بھی لگائی گئی ہیں تاکہ روشن ماحول میں لوگ ایسی حرکت کرنے سے مزید ہچکچائیں۔
میسورو سٹی کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ابتدائی تجربہ کامیاب رہا ہے اور اب شہر کے تقریباً 40 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں یہ مسئلہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ امکان ہے کہ مرحلہ وار مزید علاقوں میں بھی یہ آئینے نصب کیے جائیں گے۔
تاہم بعض شہریوں نے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت کو عوامی بیت الخلاء کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہیے تاکہ شہریوں کو مناسب سہولتیں میسر آسکیں۔


