بنڈی سنجے استعفیٰ دو، پوکسو کیس کے ملزم بَنڈی بھگیرت کو گرفتار کرو: حیدرآباد میں خواتین کا زبردست احتجاج

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار کے بیٹے بَنڈی سائی بھگیرت کے خلاف کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی اور حملے کی کوشش کے معاملہ نے ریاست بھر میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملہ میں حیدرآباد کے پیٹ بشیرآباد پولیس اسٹیشن میں پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ خواتین تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ لڑکی کے خاندان نے 9 مئی کو پولیس سے رجوع کرتے ہوئے بَنڈی سائی بھگیرت کے خلاف متعدد شواہد پیش کیے۔ تاہم خاندان کا الزام ہے کہ پولیس نے کئی گھنٹوں تک مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول کی اور تقریباً چھ گھنے کی کشمکش کے بعد کیس درج کیا گیا۔ دوسری جانب بَنڈی سائی بھگیرت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ لڑکی کے اہل خانہ نے شادی کے لیے دباؤ ڈالا اور بعد میں بلیک میلنگ اور رقم طلب کرنے کی کوشش کی۔

اسی دوران خواتین تنظیموں اور مختلف سماجی کارکنوں نے پیٹ بشیرآباد پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ تین دن گزرنے کے باوجود پولیس نے کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے ملزم کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ احتجاج کے دوران خواتین نے نعرے بازی کرتے ہوئے مرکزی وزیر بَنڈی سنجے کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا اور کمسن لڑکی کو حکومتی تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا۔

ریاستی سیاست میں اس معاملہ نے اس وقت مزید شدت اختیار کرلی جب بی آر ایس کے قائدین نے بھی ڈی جی پی دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ اگر عام شہری پر ایسا مقدمہ درج ہوتا تو پولیس فوری گرفتاری عمل میں لیتی، لیکن چونکہ معاملہ ایک مرکزی وزیر کے خاندان سے جڑا ہے اس لیے پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

ادھر سوشل میڈیا پر بھی اس معاملہ کو لے کر شدید بحث جاری ہے۔ صارفین نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ کئی بڑے ٹی وی چینلز اور اخبارات نے اس حساس معاملہ کو مناسب کوریج نہیں دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مرکزی وزیر کے اثر و رسوخ کے سبب قومی میڈیا اس خبر کو نمایاں انداز میں پیش کرنے سے گریز کر رہا ہے، جس سے میڈیا کی غیرجانبداری پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور معاملہ کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں