حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف خفیہ فوجی کارروائیوں کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا، جہاں اسرائیلی اسپیشل فورسز اور ریسکیو ٹیمیں تعینات تھیں۔ اس انکشاف کے بعد عراق میں سیاسی اور سیکیورٹی سطح پر شدید ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ اڈہ ایران کے خلاف اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اس بیس پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی موجود تھیں تاکہ اگر ایران میں کسی اسرائیلی طیارے کو نقصان پہنچے یا پائلٹ پھنس جائے تو فوری امدادی کارروائی کی جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مارچ کے آغاز میں عراقی سیکیورٹی فورسز اس خفیہ مقام کے قریب پہنچ گئی تھیں، جب ایک مقامی چرواہے نے علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی غیرمعمولی نقل و حرکت اور مشتبہ فوجی سرگرمیوں کی اطلاع دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جب عراقی اہلکار تحقیقات کے لیے وہاں پہنچے تو مبینہ طور پر اسرائیلی فضائی حملوں کے ذریعے انہیں اس مقام سے دور رکھا گیا تاکہ اڈے کا راز فاش نہ ہو۔
اخبار کے مطابق اسرائیل نے یہ اڈہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے سے کچھ ہی عرصہ قبل قائم کیا تھا۔ وہاں اسرائیلی اسپیشل فورسز کے ساتھ ساتھ فضائیہ کے لیے ضروری لاجسٹک سہولیات بھی موجود تھیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام کو اس اڈے کی مکمل معلومات تھیں اور واشنگٹن اس صورتحال سے آگاہ تھا۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب برطانوی خبر رساں اداروں نے کہا ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
عراق میں اس انکشاف کے بعد شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ نے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس حساس معاملے پر وضاحت طلب کی جا سکے۔ بعض عراقی ارکان پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے اسرائیل کو عراقی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی، جس سے عراق کی خودمختاری متاثر ہوئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مارچ میں ہونے والے ایک حملے میں ایک عراقی فوجی ہلاک ہوا تھا، جسے بعض سیاستدان اسی خفیہ کارروائی سے جوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ عراقی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اب اس علاقے میں کوئی اسرائیلی اڈہ موجود نہیں اور مبینہ بیس کو ختم کیا جا چکا ہے، لیکن عوامی سطح پر غصہ بدستور برقرار ہے۔
سوشل میڈیا پر عراقی صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے اور یہ واضح کرے کہ آیا واقعی عراق کی سرزمین کسی بیرونی خفیہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہوئی یا نہیں۔


