حیدرآباد (دکن فائلز) ایران نے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کو بیٹی کی پیدائش پر مبارکباد دیتے ہوئے امریکا پر شدید تنقید کی ہے اور ایرانی شہر مناب کے اسکول حملے میں مارے جانے والے بچوں کا حوالہ دے کر واشنگٹن کو کڑی تنبیہ کی ہے۔ ایرانی سفارتخانے کے اس بیان نے سوشل میڈیا اور عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی کم عمر ترین پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کے روز اپنی دوسری اولاد، بیٹی “ویویانا” کی پیدائش کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر نومولود بچی کو گود میں لیے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یکم مئی کو “ویوی” ان کے خاندان کا حصہ بنی اور اس کی آمد سے ان کے گھر میں خوشیوں کی نئی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے کہا کہ بچی مکمل طور پر صحت مند ہے جبکہ اس کا بڑا بھائی بھی اپنی نئی بہن کے ساتھ خوشی سے وقت گزار رہا ہے۔
لیکن اس خوشی کے موقع پر ایمبسی آف ایران ےن آرمینیا نے ایک غیرمعمولی اور سخت پیغام جاری کیا۔ سفارتخانے نے ایکس پر لکھا کہ “آپ کو مبارک ہو، بچے معصوم اور پیارے ہوتے ہیں، لیکن مناب کے اسکول میں مارے جانے والے 168 بچے بھی معصوم تھے جن کے حملے کا آپ نے دفاع کیا تھا۔ جب آپ اپنی بیٹی کو چومیں تو ان بچوں کی ماؤں کو بھی یاد کریں۔”
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 28 فروری کو ایرانی شہر مناب کے ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے حملے میں درجنوں بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں 73 لڑکے، 47 لڑکیاں، 26 اساتذہ، کئی والدین اور ایک اسکول بس ڈرائیور بھی ہلاک ہوئے۔ ایران نے اس حملے کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیا تھا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا تھا جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ تہران کا دعویٰ تھا کہ امریکی ٹوماہاک میزائل اسکول سے ٹکرایا، جبکہ امریکی حکومت نے ابتدا میں اس الزام کی تردید کی۔ امریکی صدر Donald Trump نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ممکن ہے ایران خود اس حملے میں ملوث ہو، تاہم بعد میں امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹس نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
امریکی اخبار The New York Times نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ابتدائی امریکی فوجی تحقیقات کے مطابق ایک امریکی ٹوماہاک میزائل نشانے کی غلطی کے باعث اسکول کے قریب جا گرا تھا۔ بعد ازاں جب ٹرمپ سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں مکمل معلومات نہیں۔
مارچ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے امریکی موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا جان بوجھ کر شہریوں یا بچوں کو نشانہ نہیں بناتا، جبکہ ایرانی حکومت پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ ایران نے اب اسی بیان کو بنیاد بنا کر لیویٹ کو تنقیدی انداز میں جواب دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایرانی سفارتخانے کے اس پیغام پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض صارفین نے اسے “سفارتی طنز” قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے معصوم بچوں کی ہلاکتوں کو عالمی سیاست کا سب سے المناک پہلو قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔


