چندرابابو نائیڈو کی سیکولر امیج داغدار؟ کڑپہ میں ہندوتوا شدت پسندوں کا ہنگامہ، الٹا مسلم قائدین پر اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج، پولیس پر یکطرفہ کاروائی کا الزام

حیدرآباد (دکن فائلز) ریاست آندھرا پردیش کے ضلع کڑپہ میں پیش آئے پتھراؤ واقعہ میں پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 27 افراد کے خلاف اقدامِ قتل سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، انڈین یونین مسلم لیگ سے وابستہ بعض کارکنان اور مقامی مسلم قائدین بھی شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مقامی تنازع کے بعد حالات کشیدہ ہوئے اور دونوں گروپوں کے درمیان پتھراؤ ہوا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق، معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی اور علاقے میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مقدمہ میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں اقدام قتل، فساد، سرکاری کام میں رکاوٹ اور امن و امان خراب کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ بعض سماجی تنظیموں نے اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے اور غیرجانبدار تحقیقات ہونی چاہیے۔

واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے تاہم پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں:

بڑی خبر: ہندوتوا جنونی آندھراپردیش کو اترپردیش بنانا چاہتے ہیں؟ کڑپہ میں ’ٹیپو سلطان‘ سرکل کی غیرضروری مخالفت، شرانگیزوں کی جانب سے پتھراؤ، الماس پیٹ میں حالات انتہائی کشیدہ، چندرابابو نائیڈو کے وعدہ کے باوجود ہندو تنظیموں کی مخالفت (تفصیلی خبر)

اپنا تبصرہ بھیجیں