حیدرآباد (دکن فائلز کے نمائندہ شیخ سردار کی رپورٹ) آندھرا پردیش کے کڑپہ میں پیش آئے فرقہ وارانہ تصادم کے ایک معاملے میں درج ایف آئی آر نے نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس انسپکٹر کی جانب سے درج ایف آئی آر میں تمام 27 ملزمان کو مسلمان قرار دیا گیا ہے۔
اس معاملے پر مختلف سماجی حلقوں اور مسلم تنظیموں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں مذہبی شناخت کو نمایاں انداز میں درج کرنا غیر ضروری اور تعصب پر مبنی عمل محسوس ہوتا ہے۔ مقامی شہریوں نے پولیس پر جانبداری اور یکطرفہ کاروائی کا الزام عائد کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم اس معاملے نے ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول اور پولیس کے طرزِ عمل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق جھڑپ ایک معمولی تنازعہ سے شروع ہوئی تھی جو بعد میں شدت اختیار کرگئی۔ مقامی مسلمانوں نے پولیس کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مسلمانوں کے خلاف عائد کئے گئے مقدمات کو ختم کیا جائے اور ہندوتوا شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ علاقہ میں امن و امان برقرار رہے سکے۔ اپوزیشن جماعتوں نے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک اور اطلاع کے مطابق کڑپہ میں 9 مئی 2026 کو الماس پیٹ علاقے میں پیش آئے فرقہ وارانہ تصادم کے معاملے میں پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایک اور مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ کیس کڑپہ کے سیکنڈ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے، جس میں ہندو سماجی تنظیموں اور مقامی گروپوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق درج مقدمے میں جَنگیٹی وینکٹ سُبّا ریڈی، بومنا وجئے کمار، کے وجیانند ریڈی، چنّا کرشنا ریڈی، بیستاویمولا رام مہیش، مدھوسودن ریڈی، لکشمی نارائن ریڈی، ملیکارجن، بالاکرشنا یادو، ستیش چندر، پچگنٹلا پکیریّا، پوسا رام سوامی، اُپّو سرینواسولو، اُپّو سرینو، گجّالا وینکٹ سببار یڈی، وڈّی رام پرساد اور رانا جئے کمار عرف جیاپا سمیت دیگر کئی افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے ان افراد کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے، عوامی امن و امان میں خلل ڈالنے، اشتعال انگیز سرگرمیوں اور تصادم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات کے تحت کارروائی شروع کی ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے ابھی تک باضابطہ طور پر مکمل ایف آئی آر عوام کے سامنے جاری نہیں کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی کو کڑپہ کے الماس پیٹ علاقے میں دو گروپوں کے درمیان کشیدگی کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کردی گئی تھی اور متعدد افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
اس خبر سے متعلق خبریں پڑھیں:


