’ابا جان! کیا سورج نکل آیا ہے؟‘ صہیونی بارود نے ننھے محمد کی آنکھوں کی روشنی چھین لی، غزہ کے معصوم بچوں پر اسرائیلی سفاکیت کے ان مٹ زخم

حیدرآباد (دکن فائلز) غزہ کی پٹی آج بھی قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، تباہ شدہ عمارتوں اور انسانی المیوں کے ملبے تلے کراہ رہی ہے۔ ہر گلی، ہر خیمہ اور ہر اجڑا گھر ایک ایسی داستان سناتا ہے جس میں معصومیت لہولہان ہے، خواب راکھ بن چکے ہیں اور بچپن چیخ چیخ کر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ انہی دردناک کہانیوں میں ایک نام 12 سالہ محمد عودہ کا بھی ہے، جس کی آنکھوں سے روشنی چھین کر صہیونی جنگی جنون نے اس کی پوری دنیا اندھیرے میں ڈبو دی۔

وسطی غزہ کے شہر دیر البلح کے ایک پناہ گزین کیمپ میں رہنے والا ننھا محمد کبھی دوسرے بچوں کی طرح کھیلتا، دوڑتا اور خوشی سے زندگی گزارتا تھا۔ مگر ایک لمحے نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ ملبے کے درمیان پڑی ایک دھاتی چیز کو اس نے کھلونا سمجھ کر اٹھایا، لیکن وہ دراصل قابض اسرائیلی فوج کا چھوڑا ہوا نہ پھٹنے والا بارودی مواد تھا، جو اس کے ہاتھ لگتے ہی خوفناک دھماکے سے پھٹ پڑا۔

اس قیامت خیز دھماکے نے محمد کے چہرے کو جھلسا دیا، اس کی دونوں آنکھوں کی روشنی چھین لی اور اس کے بائیں ہاتھ کی چار انگلیاں بھی کاٹ ڈالیں۔ وہ آج بھی کانپتی آواز میں اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ “میں نے اسے کھلونا سمجھا تھا، لیکن وہ میرے چہرے پر پھٹ گیا۔ اس کے بعد میری دنیا تاریک ہو گئی، اب مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔”

ننھے محمد کی یہ آہ و بکا صرف ایک بچے کی داستان نہیں بلکہ غزہ کے ان لاکھوں فلسطینیوں کی اجتماعی چیخ ہے جو اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں موت، بھوک، معذوری اور بے گھری کی اذیتیں سہنے پر مجبور ہیں۔

محمد اب ایک خیمے میں زندگی گزار رہا ہے جہاں نہ مناسب علاج ہے، نہ بجلی، نہ سکون اور نہ ہی مستقبل کی کوئی واضح امید۔ اس کے والد حسام عودہ اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر ٹوٹ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محمد کبھی بہت چنچل اور زندگی سے بھرپور بچہ تھا، مگر اب ہر لمحہ تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔

ان کے مطابق سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب محمد دن کے اجالے میں پوچھتا ہے “ابا جان! کیا سورج نکل آیا ہے یا ابھی رات ہے؟”

یہ سوال صرف ایک نابینا بچے کا سوال نہیں بلکہ غزہ کی تاریکی میں ڈوبی پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک زوردار دستک ہے۔

شدید جسمانی معذوری اور اذیت کے باوجود محمد نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ اب بھی تعلیم حاصل کرنے اور عام بچوں کی طرح زندگی گزارنے کا خواب دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ “جنگ نے میری آنکھیں اور میرا بچپن چھین لیا، مگر میں پھر بھی پڑھنا چاہتا ہوں، میں پھر سے دوڑنا چاہتا ہوں۔”

دیر البلح میں اقوام متحدہ کے ادارے “انروا” کے زیر انتظام نابینا افراد کے مرکز میں محمد اب بریل رسم الخط کے ذریعے پڑھنا سیکھ رہا ہے۔ وہ سفید چھڑی کے سہارے راستہ تلاش کرنے کی مشق کرتا ہے تاکہ اندھیرے میں بھی زندگی کی کوئی راہ نکال سکے۔

ڈاکٹروں کے مطابق اگر محمد کو بیرون ملک منتقل کر کے جدید طبی امداد اور قرنیہ کی پیوند کاری فراہم کی جائے تو ممکن ہے اس کی بینائی کسی حد تک واپس آ سکے، مگر غزہ پر قابض اسرائیل کے محاصرے اور تباہ حال طبی نظام نے ہزاروں زخمیوں کی طرح اس کی امیدوں کو بھی قید کر رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مائن ایکشن نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اس وقت ایک بڑے بارودی میدان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں اور ملبے کے نیچے ہزاروں نہ پھٹنے والے بم اور میزائل موجود ہیں، جو کسی بھی وقت نئی جانیں نگل سکتے ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر ہزاروں ٹن بارود برسایا، جس میں بڑی مقدار اب بھی زمین کے نیچے موجود ہے۔ یہی خاموش بم اب بچوں، خواتین اور عام شہریوں کے لیے مسلسل موت کا سبب بن رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں معذور ہونے والے بچوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جبکہ ہسپتالوں کی تباہی، ادویات کی قلت اور اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث علاج تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

محمد عودہ آج بھی اپنے اندھیرے خیمے میں بیٹھا کسی معجزے کا منتظر ہے۔ وہ صرف ایک سوال کرتا ہے کہ “کیا میں دوبارہ سورج دیکھ سکوں گا؟”

اپنا تبصرہ بھیجیں