ایران کا دوٹوک مؤقف: دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے؛ امریکہ کو ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کرنا ہوں گے

حیدرآباد (دکن فائلز) ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ اور مغربی دباؤ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران دشمن کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا اور امریکہ کے پاس ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ دشمن کے سامنے جھکنا ایران کی تاریخ، قومی وقار اور پالیسی کا حصہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کو قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت ہتھیار ڈالنے کے لیے۔

ایرانی صدر نے الزام لگایا کہ جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی غیرقانونی ناکہ بندی جاری رکھی گئی ہے، جو بین الاقوامی معاہدوں اور وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں اعتماد سازی اور استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کی حالیہ تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں جنگ بندی، خلیجی خطے میں امن، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے نکات پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 14 نکاتی ایرانی تجویز میں عوام کے بنیادی حقوق واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں اور امریکہ کو انہیں تسلیم کرنا ہی ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے حقوق کو نظرانداز کرنے والی ہر حکمت عملی ناکام ہوگی اور اس کا نتیجہ امریکہ کے لیے مزید سیاسی اور معاشی نقصان کی صورت میں نکلے گا۔ قالیباف نے کہا کہ جتنی زیادہ تاخیر امریکہ کرے گا، اس کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑے گی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی ٹیم کا اہم اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں ایران سے متعلق آئندہ حکمت عملی اور ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اس وقت “وینٹی لیٹر پر” ہے اور انہوں نے ابھی تک “پراجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ امریکی صدر نے ایران کی تازہ تجاویز کو “احمقانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ معاہدے کا امکان موجود ہے، تاہم ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے موصول ہونے والے پیغام میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کی کوئی واضح یقین دہانی شامل نہیں تھی، اس لیے امریکہ سخت مؤقف برقرار رکھے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں