حیدرآباد (دکن فائلز) ’نیٹ یو جی‘ امتحان کے پیپر لیک تنازعے کے بعد امتحان منسوخ کیے جانے پر سیاسی ہنگامہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے مرکزی حکومت اور امتحانی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل پیپر لیک کے واقعات نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں۔
کانگریس کی راجیہ سبھا رکن رنجیت رنجن، رکنِ پارلیمنٹ طارق انور، بہار کانگریس کے لیڈروں مدن موہن جھا اور راجیش رام نے حکومت پر سخت حملے کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں طلبہ کی محنت، خواب اور خاندانوں کی قربانیاں بدعنوانی کی نذر ہو رہی ہیں۔
کانگریس راجیہ سبھا رکن رنجیت رنجن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ “22 لاکھ سے زائد بچے سال بھر دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن ایک پیپر لیک ان کی پوری محنت برباد کر دیتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ دس برسوں میں ملک بھر میں 89 پیپر لیک کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جبکہ 48 مرتبہ امتحانات دوبارہ کرانے پڑے۔
رنجیت رنجن نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ “آخر کب تک تحقیقات کے نام پر صرف خانہ پوری ہوتی رہے گی؟ ہر بار وعدے کیے جاتے ہیں، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ مسلسل پیپر لیک اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت امتحانی نظام کی شفافیت اور سلامتی کو یقینی بنانے میں ناکام ہو چکی ہے۔
بہار کے کٹیہار سے کانگریس رکنِ پارلیمنٹ طارق انور نے بھی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ امیدواروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے “ایکس” پر لکھاکہ “لاکھوں خاندانوں نے اپنے بچوں کے خواب پورے کرنے کے لیے قرض لیا، زیورات بیچے اور دن رات محنت کی، مگر اگر نظامِ تعلیم میں پیپر لیک اور بدعنوانی حاوی رہے گی تو پھر قابلیت کی کیا قدر رہ جائے گی؟”
طارق انور نے کہا کہ ملک کے نوجوان ایک بہتر مستقبل کے لیے سخت جدوجہد کرتے ہیں، لیکن بدعنوان عناصر ان کی محنت کو تباہ کر دیتے ہیں۔
بہار کانگریس کے رہنما مدن موہن جھا نے کہا کہ حکومت امتحانات کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “طلبہ دن رات محنت کریں اور حکومت امتحان تک محفوظ نہ رکھ سکے تو اسے انتظامیہ کی ناکامی نہیں تو اور کیا کہیں گے؟” انہوں نے الزام لگایا کہ این ڈی اے حکومت میں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔
اسی طرح بہار کانگریس کے صدر راجیش رام نے سخت الفاظ میں حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ “نیٹ پیپر لیک نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں اب امتحان نہیں بلکہ پیپر کی نیلامی چل رہی ہے۔ نوجوان پڑھائی کرے یا مافیاؤں سے لڑے؟” انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت میں محنت ہار رہی ہے اور بدعنوانی جیت رہی ہے۔
نیٹ امتحان منسوخ ہونے کے بعد ملک بھر کے طلبہ اور والدین میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ لاکھوں امیدوار ایک سال کی سخت محنت کے بعد امتحان کی تیاری کرتے ہیں، جبکہ کوچنگ، رہائش اور دیگر اخراجات پر خاندان اپنی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل پیپر لیک کے واقعات نوجوانوں کے ذہنی دباؤ، مایوسی اور نظامِ تعلیم پر عدم اعتماد میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
سیاسی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، امتحانی نظام کو جدید اور محفوظ بنایا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی ہو تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔


