حیدرآباد میں گؤ رکشکوں کی شرانگیزی عروج پر اور پولیس خاموش تماشائی: گڈی ملکاپور میں پتھراؤ، لاٹھی چارج میں متعدد افراد زخمی، ماجد حسین کا زبردست احتجاج

حیدرآباد (دکن فائلز) شہر کے گڈملکاپور علاقہ میں ہفتہ کی نصف شب اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب مویشیوں کی منتقلی کی افواہ پر دو گروپوں کے درمیان پتھراؤ شروع ہوگیا۔ واقعہ میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ پولیس کو حالات قابو میں کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔

اطلاعات کے مطابق چند گؤ رکشکوں نے ایک ڈی سی ایم/کنٹینر گاڑی کو اس شبہ میں روک لیا کہ اس میں مویشی منتقل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم جانچ کے دوران گاڑی میں مویشی نہیں بلکہ پلووڈ، کارڈ بورڈ اور دیگر سامان موجود پایا گیا۔ اس کے باوجود گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا اور ڈرائیور و کلینر کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا گیا۔

ڈرائیور پر حملہ دیکھ کر مقامی نوجوان بڑی تعداد میں وہاں جمع ہوگئے، جس کے بعد دونوں طرف سے کشیدگی بڑھ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پتھراؤ شروع ہوگیا۔ اس دوران پولیس اہلکار بھی پتھراؤ کی زد میں آگئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کم از کم دو تا تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کچھ راہگیر بھی زخمی ہوئے۔ گڈی ملکاپور روڈ پر واقع فنکشن ہالس کے باہر کھڑی کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

حالات بگڑتے دیکھ کر پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کیا۔ بعد ازاں اضافی پولیس فورس طلب کی گئی اور سینئر پولیس عہدیدار موقع پر پہنچے۔ واقعہ کے باعث مہدی پٹنم تا عطاپور روڈ پر ٹریفک کچھ دیر کے لیے متاثر رہی، تاہم بعد میں پولیس نے ٹریفک بحال کرایا۔

واقعہ کے بعد نامپلی کے رکن اسمبلی ماجد حسین موقع پر پہنچے اور مقامی افراد کے ساتھ دھرنا دیتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پولیس کے رویہ پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب گاڑی میں پلووڈ موجود تھا تو پھر تشدد کیوں ہونے دیا گیا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

بعد ازاں جوائنٹ کمشنر پولیس تفسیر اقبال نے موقع پر پہنچ کر رکن اسمبلی سے بات چیت کی اور معاملہ کی مکمل جانچ و کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے بھی پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ گؤ رکشکوں کی بڑی تعداد پہلے ہی سڑک پر جمع ہوکر ماحول خراب کر رہی تھی، اس کے باوجود پولیس نے مؤثر کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مویشی تاجروں یا عام شہریوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

واقعہ کے بعد علاقہ میں پولیس گشت بڑھا دی گئی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی فورس تعینات کردی گئی ہے۔ پولیس نے عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں