حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ خطرناک مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے فوجی حملے کے بعد ’’فتح کے اعلان‘‘ پر غور کررہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے امریکہ پر ’’غیر حقیقت پسندانہ اور حد سے زیادہ مطالبات‘‘ عائد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یہی رویہ امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
العربیہ اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اچانک اپنا بیرونی دورہ مختصر کرتے ہوئے واشنگٹن واپسی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد عالمی سطح پر قیاس آرائیاں تیز ہوگئیں کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کررہا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ تہران کے خلاف محدود یا بڑے پیمانے کے حملوں سمیت مختلف آپشنز پر غور کررہی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی سیکورٹی اجلاس بھی منعقد ہوئے ہیں جن میں خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی فوج اور اتحادی افواج نے خلیجی خطہ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھادی ہے، جبکہ جنگی طیاروں، بحری بیڑوں اور دفاعی نظام کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران نے خطے میں امریکی مفادات یا اتحادیوں کو نشانہ بنایا تو واشنگٹن فوری اور سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امن مذاکرات اس وقت ’’انتہائی نازک موڑ‘‘ پر پہنچ چکے ہیں اور امریکہ کے ’’غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات‘‘ کسی بھی معاہدہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ تہران نے واضح کیا کہ ایران دباؤ، دھمکی یا جنگی ماحول میں اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق تہران اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے، لیکن اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں نے کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کی تو ایران بھرپور جواب دے گا۔ ایرانی قیادت نے یہ بھی عندیہ دیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور مفادات کسی بھی جنگ کی صورت میں ’’محفوظ نہیں رہیں گے‘‘۔
ماہرین کے مطابق موجودہ کشیدگی صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر پڑسکتے ہیں۔ خلیجی ممالک، اسرائیل، عراق، شام اور لبنان سمیت کئی خطے پہلے ہی شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ عالمی سطح پر خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو ایک وسیع علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔
ادھر عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔ کئی سفارتی حلقے آخری لمحوں میں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ممکنہ فوجی حکمت عملی نہ صرف امریکی داخلی سیاست بلکہ آئندہ عالمی سفارتی توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ دوسری طرف ایران بھی اس بحران کو اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی اثرورسوخ کے تناظر میں دیکھ رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے امکانات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔


