وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشتبہ شخص ہلاک، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ

حیدرآباد (دکن فائلز) مریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعہ نے سکیورٹی اداروں میں کھلبلی مچا دی۔ امریکی سیکریٹ سروس کے مطابق ایک مسلح شخص نے وائٹ ہاؤس کے قریب قائم سکیورٹی چیک پوائنٹ پر پہنچ کر اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بجے پیش آیا، جب ایک شخص 17ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو کے قریب موجود چیک پوائنٹ پر آیا اور اپنے بیگ سے ہتھیار نکال کر اہلکاروں پر اندھا دھند گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی جس میں حملہ آور شدید زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد اس کی موت ہو گئی۔

واقعہ کے دوران ایک راہگیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ حملہ آور کی گولی سے زخمی ہوا یا جوابی کارروائی کے دوران فائر ہونے والی گولی کا نشانہ بنا۔

امریکی خفیہ سروس نے بتایا کہ اس واقعہ میں ان کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا جبکہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے، تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

واقعہ کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی اور علاقے کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی کہ ایف بی آئی کی ٹیمیں بھی موقع پر موجود ہیں اور خفیہ سروس کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہی ہیں۔

واقعہ کے وقت وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافی بھی وہاں موجود تھے۔ امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کی صحافی سیلینا وانگ نے بتایا کہ اچانک ’’درجنوں گولیوں‘‘ کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد صحافیوں کو فوراً دوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق حالیہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس اور اس کے اطراف سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ اور صدر ٹرمپ پر مبینہ حملے کی کوشش جیسے واقعات پیش آ چکے ہیں، جس کے بعد سکیورٹی ادارے پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں