حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں ایرانی ڈرون لانچنگ تنصیبات اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب خطے میں جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکی افواج نے جنوبی ایران میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں ڈرون لانچنگ سائٹس اور ایران کی وہ کشتیاں شامل تھیں جن پر بارودی سرنگیں نصب کیے جانے کا شبہ تھا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں موجود اپنی افواج کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

اس کارروائی سے قبل ایران کے ساحلی شہر بندر عباس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ روسی خبر ایجنسی نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خلیج عمان کے قریب واقع جسک اور سرک قصبوں میں بھی اسی نوعیت کے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

تاہم ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بندر عباس کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ابھی تک دھماکوں کی نوعیت یا نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور جنگ بندی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں