’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو‘ توحید بڑی کامیابی ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘: مسجدِ نمرہ سے روح پرور خطبۂ حج، لاکھوں حجاج اشکبار

حیدرآباد (دکن فائلز) حج 2026 کے رکنِ اعظم ’’وقوفِ عرفات‘‘ کے موقع پر مسجدِ نمرہ سے امام و خطیب مسجد نبوی ﷺ الشیخ ڈاکٹر علی عبدالرحمان الحذیفی نے انتہائی روح پرور، ایمان افروز اور فکر انگیز خطبۂ حج دیا، جس میں انہوں نے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، توحید، صبر، اتحاد، سچائی، عبادت اور آخرت کی تیاری کا پیغام دیا۔ خطبے کے دوران میدانِ عرفات میں موجود لاکھوں حجاج کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں جبکہ ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘ کی صدائیں فضا میں گونجتی رہیں۔

امامِ حج نے اپنے خطبے کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نبی کریم ﷺ پر درود و سلام سے کیا اور فرمایا: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اپنے عہد کی پاسداری کرو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ تقویٰ ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے اور ایمان والوں کی حقیقی شان بھی یہی ہے۔

الشیخ علی الحذیفی نے زور دے کر کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، صرف اسی کی عبادت کی جائے اور توحید پر مضبوطی سے قائم رہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے کہ وہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔

شیخ کا مزید کہنا تھا جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کیلئے اللہ نے دُہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ جن قوموں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اُن سے وہ نعمتیں چھین لی گئیں۔

خطبے میں انہوں نے مسلمانوں کو ہر حال میں صبر اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے عظیم اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومیں جب اللہ کی نعمتوں کی ناشکری اور ظلم میں مبتلا ہو جاتی ہیں تو ان سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں، لہٰذا امتِ مسلمہ کو شکرگزاری اور عدل و انصاف کو اپنانا چاہیے۔

امامِ حج نے قیامت کے ہولناک مناظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن انتہائی خوفناک ہوگا، جب ماں اپنے بچے کو اور بچے اپنی ماں کو بھول جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان کو آخرت کی تیاری کرنی چاہیے کیونکہ قیامت کا آنا حق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔

انہوں نے مسلمانوں کو سچ بولنے، غلط بیانی، غیبت اور بدعت سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ حج کے دوران کسی بھی قسم کے جھگڑے، دھکم پیل اور ایسے اعمال سے اجتناب کیا جائے جو امت کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ حج مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے، محبت اور مساوات کا عظیم درس دیتا ہے۔

خطبۂ حج میں امامِ مسجد نبوی ﷺ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج فرض کیے ہیں اور ان تمام عبادات کا مقصد انسان کو اللہ کے قریب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بہترین دعا وہ ہے جو یومِ عرفہ میں مانگی جائے، اس لیے حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ کثرت سے دعا، استغفار اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہیں۔

انہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، سلامتی اور ہدایت کے لیے خصوصی دعائیں کرتے ہوئے کہا: ’’اے اللہ! مسلمانوں کے حالات بہتر فرما، ان کے گناہوں کو معاف فرما، امت کو ہدایت عطا فرما اور تمام حجاج کی عبادات قبول فرما۔‘‘

واضح رہے کہ میدانِ عرفات میں اس وقت دنیا بھر سے آئے تقریباً 18 لاکھ سے زائد حجاج کرام موجود ہیں، جنہوں نے خطبۂ حج سننے کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کے ساتھ ادا کیں۔ حجاج شام تک عرفات میں قیام، دعا اور مناجات میں مصروف رہیں گے، جس کے بعد وہ مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کر کے رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے۔

10 ذوالحجہ کو حجاج کرام منیٰ میں شیطان کو کنکریاں ماریں گے، قربانی ادا کریں گے، حلق یا قصر کروائیں گے اور پھر طوافِ زیارت کے بعد مناسکِ حج مکمل کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں