یومِ عرفہ کے مقدس دن مسجدِ اقصیٰ پر شدت پسند یہودی آباد کاروں کا حملہ! قبلہ اول کی بیحرمتی پر مسلمانوں میں غم و غصہ

حیدرآباد (دکن فائلز) مسجدِ اقصیٰ پر یومِ عرفہ کے مبارک اور روحانی موقع پر ایک بار پھر شدت پسند یہودی آباد کاروں کے دھاووں اور اشتعال انگیز کارروائیوں نے عالمِ اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح مسلح یہودی آباد کاروں کے متعصب گروہوں نے قابض اسرائیلی افواج کی مکمل سکیورٹی اور سرپرستی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر تلمودی رسومات ادا کیں اور اشتعال انگیز حرکات کا مظاہرہ کیا۔

یہ اشتعال انگیز کارروائی ایسے وقت انجام دی گئی جب دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان میدانِ عرفات میں وقوفِ عرفہ ادا کرتے ہوئے عبادت، دعا اور استغفار میں مصروف تھے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی فورسز نے باب المغاربہ سے لے کر مسجد کے مشرقی حصے تک یہودی آباد کاروں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی اور اس دوران عام فلسطینی نمازیوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق یہودی آباد کاروں نے مسجدِ اقصیٰ کے مشرقی حصے اور بابِ رحمت کے اطراف جمع ہو کر اجتماعی دعائیں، مذہبی نعرے اور مخصوص تلمودی رسومات ادا کیں۔ بعض آباد کاروں کو ’’تفلین‘‘ نامی مذہبی آلہ باندھے ہوئے بھی دیکھا گیا، جو یہودی مذہبی عبادات میں استعمال کیا جاتا ہے اور جسے بازو اور پیشانی پر باندھا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان غاصب آباد کاروں نے اپنے نام نہاد مذہبی تہوار ’’شفوعوت‘‘ (عید الاسابيع) کے موقع پر مسجد کے صحن میں ناچ گانے، شور شرابے اور رقص کا بھی اہتمام کیا، جسے فلسطینی حلقوں نے مسجدِ اقصیٰ کی کھلی بے حرمتی اور اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پیر کے روز بھی 400 سے زائد یہودی آباد کاروں نے مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا بولا تھا جبکہ 75 دیگر افراد سیاحتی وفود کی آڑ میں احاطۂ مسجد میں داخل ہوئے تھے۔ فلسطینی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل مسلسل ان دھاووں کے ذریعے مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و اسلامی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فلسطینی مذہبی اور سیاسی حلقوں نے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمِ اسلام اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ پر بڑھتے ہوئے یہ دھاوے نہ صرف مذہبی اشتعال انگیزی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فورسز نے دھاووں کے دوران مسجدِ اقصیٰ کے مشرقی حصے کو مکمل طور پر سیل رکھا اور فلسطینی نمازیوں کو اس علاقے کے قریب جانے سے بھی روک دیا، جبکہ آباد کاروں کو کھلی آزادی کے ساتھ مذہبی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی گئی۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق یہ صورتحال مسجدِ اقصیٰ کے تقدس اور تاریخی حیثیت کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں