فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد کرنے والے درندے! اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور جیل حکام کو اقوام متحدہ نے بلیک لسٹ کردیا

حیدرآباد (دکن فائلز) اقوام متحدہ نے جنگی حالات میں جنسی تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور اسرائیلی جیل حکام کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں اسرائیل اور روس دونوں کی سکیورٹی فورسز کو ان اداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن پر تنازعات کے دوران جنسی تشدد میں ملوث ہونے یا اس کے ذمہ دار ہونے کے معتبر الزامات موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بالخصوص غزہ اور اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ جنسی تشدد، ناروا سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ رجحان کئی برسوں سے جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے گزشتہ سال اسرائیل اور روس کو خبردار کیا تھا کہ اگر الزامات کی تحقیقات میں تعاون نہ کیا گیا تو انہیں بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد درخواستوں کے باوجود نہ اسرائیل اور نہ ہی روس نے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو متعلقہ مقامات تک رسائی دی، جس کی وجہ سے جامع تحقیقات میں مشکلات پیش آئیں۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’شرمناک‘‘ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے ذریعہ اسرائیل کو حماس جیسے گروہوں کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

رپورٹ جلد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو پیش کی جائے گی، جہاں اس پر مزید غور و خوض متوقع ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ الزامات میں ملوث افراد کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مؤثر کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں