نرساپور میں مسلمانوں کو قربانی سے روک دیا گیا؟ امجد اللہ خان کا شدید ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) مجلس بچاؤ تحریک نے ضلع میدک کے نرساپور میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمانوں کو قربانی سے مبینہ طور پر روکنے کے پولیس اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔ ایم بی ٹی ترجمان امجد اللہ خان نے کہا کہ نرساپور کے کئی مسلمانوں نے ان سے رابطہ کرکے شکایت کی کہ پولیس مبینہ طور پر قانونی طور پر لائے گئے بیلوں کی قربانی کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔

ان کے مطابق تلنگانہ میں بیلوں کی نقل و حمل یا قربانی پر کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے، اس کے باوجود پولیس کی مبینہ مداخلت سے مسلمانوں میں خوف، غصہ اور الجھن پیدا ہوگئی ہے۔ امجد اللہ خان نے کہا کہ عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا اہم مذہبی فریضہ ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قربانی انجام دینا شہریوں کا آئینی و مذہبی حق ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کی غیر ضروری مداخلت مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہی ہے اور اس سے ریاست میں بداعتمادی پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ پولیس عہدیداروں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ نرساپور میں مسئلہ فوری حل ہو اور مسلمانوں کو پرامن طور پر قربانی انجام دینے دی جائے۔

ایم بی ٹی ترجمان نے تلنگانہ ڈی جی پی سی وی آنند، وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین، مشیر برائے اقلیتی امور محمد علی شبیر اور ٹی ایم آر ای آئی ایس کے چیئرمین فہیم قریشی سے بھی اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے مسلمانوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

امجد اللہ خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ جب تلنگانہ میں قربانی پر کوئی پابندی نہیں ہے تو نرساپور میں مسلمانوں کو کس قانونی بنیاد پر روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مذہبی معاملات میں مسلسل مداخلت ریاست کے فرقہ وارانہ ماحول کو متاثر کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں