حیدرآباد (دکن فائلز) شہرِ حیدرآباد کی ممتاز علمی، سماجی اور قانونی شخصیت، نامور سینئر ایڈوکیٹ جناب غلام یزدانی صاحب انتقال کر گئے۔ ان کا انتقال جمعرات 28 مئی 2026ء (10 ذوالحجہ 1447ھ) کو بنجارہ ہلز کے سنچری ہسپتال میں ہوا۔ مرحوم کی عمر 98 برس تھی۔
غلام یزدانی صاحب کا شمار حیدرآباد کی ان شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی طویل زندگی قانون، سماجی خدمت اور دینی و ملی سرگرمیوں کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ اپنی شرافت، دیانت داری، خوش اخلاقی اور عوامی خدمات کی وجہ سے مختلف حلقوں میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
مرحوم کئی دہائیوں تک قانونی شعبہ سے وابستہ رہے اور وکلا برادری میں ایک معتبر اور باوقار مقام رکھتے تھے۔ ان کی زندگی نوجوان وکلا اور سماجی کارکنوں کے لیے ایک مثال سمجھی جاتی تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سے شہر کے قانونی، سماجی اور مذہبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
غلام یزدانی صاحب حالیہ دنوں میں شدید صدمہ اور علالت کا شکار تھے۔ وہ معروف ایڈوکیٹ مرحوم خواجہ معیز الدین کے خسر (سسر) تھے، جنہیں گزشتہ ہفتے مبینہ طور پر وقف مافیا کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا تھا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق غلام یزدانی صاحب اپنے داماد کے ساتھ ہی رہائش پذیر تھے اور ان کی ناگہانی موت کا صدمہ ان پر گہرے اثرات چھوڑ گیا تھا۔ وہ زیرِ علاج تھے لیکن اس المناک حادثے کے بعد صحت مسلسل گرتی چلی گئی اور بالآخر وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مرحوم کے جسدِ خاکی کو پہلے جاوید مسکن، ہل فورٹ (نوبت پہاڑ) منتقل کیا جائے گا، جہاں اہل خانہ، عزیز و اقارب اور عقیدت مند آخری دیدار کر سکیں گے۔ بعد ازاں صبح 10 بجے میت کو گن فاؤنڈری میں واقع ان کی رہائش گاہ لے جایا جائے گا۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ جمعہ جامع مسجد عالیہ، گن فاؤنڈری میں ادا کی جائے گی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ غلام یزدانی صاحب کو جامع مسجد عالیہ کے طویل ترین عرصے تک خدمت انجام دینے والوں میں شمار کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے مسجد اور اس سے وابستہ افراد کے درمیان ان کا ایک خصوصی مقام تھا۔
مرحوم کے انتقال پر مختلف سماجی، مذہبی، قانونی اور عوامی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے حیدرآباد کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور ان کی مغفرت و بلندیٔ درجات کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور اہل خانہ کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


