(دکن فائلز) برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران میں انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان ادا کر دی گئی ہے۔ تاہم اس خبر کی آزاد ذرائع سے تاحال مکمل تصدیق نہیں ہو سکی اور ایران کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق نماز جنازہ میں خامنہ ای کے اہل خانہ اور چند اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تقریب کو محدود رکھا گیا۔
واضح رہے کہ فروری 2026 میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی سرکاری ٹی وی نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کی تھی اور ملک میں سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔ بعد ازاں بعض رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ خامنہ ای کی سرکاری تدفین اور عوامی الوداعی تقریب سکیورٹی اور انتظامی وجوہات کے باعث ملتوی کر دی گئی تھی۔
دی ٹیلی گراف کے تازہ دعوے کے مطابق اب نماز جنازہ محدود پیمانے پر تہران میں ادا کی گئی، تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے ایرانی سرکاری میڈیا یا دیگر معتبر آزاد ذرائع کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین سے متعلق ہر خبر کو نہایت احتیاط کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق تہران ممکنہ طور پر سکیورٹی خدشات کے باعث ایسی تقریبات کی معلومات محدود انداز میں جاری کر رہا ہے۔


