حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں گوروکل تعلیمی اداروں میں مبینہ بدعنوانی اور ریاستی قرضوں کے معاملے پر سیاسی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب بی آر ایس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر ہریش راؤ کو گن پارک جانے سے قبل ہی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ہریش راؤ حکومت کے وزراء کی جانب سے دیے گئے عوامی مباحثے کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے گن پارک روانہ ہوئے تھے، تاہم پولیس نے انہیں تلنگانہ بھون کے قریب روک دیا، جس کے بعد وہاں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
پولیس نے یہ موقف اختیار کیا کہ گن پارک میں اجتماع یا ریلی کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے ہریش راؤ کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس دوران بی آر ایس کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔
ہریش راؤ نے پولیس سے سوال کیا کہ جب حکومت کے وزراء نے خود عوامی مباحثے کا چیلنج دیا ہے تو پھر انہیں وہاں جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت عوام کے سامنے حقائق آنے سے خوفزدہ ہے۔
جب پولیس نے ان کی گاڑی روک دی تو ہریش راؤ گاڑی سے اتر کر پیدل گن پارک جانے لگے، لیکن پولیس نے انہیں روک لیا۔ اس دوران ہونے والی دھکم پیل میں ہریش راؤ زمین پر گر پڑے، جس کے بعد پولیس نے انہیں اور متعدد بی آر ایس کارکنوں کو تحویل میں لے لیا۔
واضح رہے کہ ریاستی وزراء پونم پربھاکر، اے لکشمن اور اظہرالدین نے بی آر ایس قائدین ہریش راؤ اور کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کو گوروکل اداروں میں مبینہ بدعنوانی اور ریاستی قرضوں کے معاملے پر کھلے مباحثے کا چیلنج دیا تھا۔ وزراء نے اعلان کیا تھا کہ وہ گن پارک میں اس بحث کے لیے موجود رہیں گے۔
ہریش راؤ نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس حکومت کے خلاف مضبوط دستاویزی ثبوت موجود ہیں اور وزراء کو بحث سے فرار نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم پولیس کارروائی کے باعث یہ مجوزہ مباحثہ منعقد نہ ہو سکا۔
بی آر ایس نے اس کارروائی کو جمہوری حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کانگریس حکومت کا مؤقف ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے۔


