بڑی خبر: مرزا رحمت بیگ، مجلس سے خارج! ایم ایل سی رکنیت سے فوری استعفیٰ دینے کی ہدایت۔۔ ویڈیو لیک کا کیا ہے معاملہ؟

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم اور اچانک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے رکن مرزا رحمت بیگ کو پارٹی سے فوری طور پر خارج کردیا ہے۔ پارٹی نے انہیں قانون ساز کونسل کی رکنیت سے بھی فوری استعفیٰ دے کر چیئرمین کے حوالے کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم پارٹی کی جانب سے جاری مختصر بیان میں ان کے اخراج کی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔

مجلس کے جوائنٹ سیکریٹری ایس اے حسین انور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مرزا رحمت بیگ کو فوری اثر کے ساتھ مجلس سے خارج کیا جاتا ہے اور انہیں قانون ساز کونسل کے چیئرمین کو اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرنا ہوگا۔ پارٹی نے اس فیصلے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

مرزا رحمت بیگ کے خلاف پارٹی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انہوں نے حال ہی میں حیدرآباد سائبر کرائم پولیس سے رجوع کرتے ہوئے مبینہ طور پر شکایت کی تھی کہ نامعلوم افراد انہیں انٹرنیٹ پر کال کرکے رقم وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بیگ نے پولیس کو بتایا کہ مبینہ طور پر انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو ان کی ڈیپ فیک ویڈیوز اور مورف شدہ تصاویر سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے عام کردی جائیں گی، جس سے ان کی ساکھ، خاندان اور سیاسی کیریئر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پولیس نے اس شکایت پر مقدمہ درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

پولیس کے مطابق معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات، بشمول بھتہ خوری اور مجرمانہ دھمکی سے متعلق دفعات، کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

مرزا رحمت بیگ کے پارٹی سے اخراج کے بعد سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ بحث اسی بات پر ہورہی ہے کہ آیا ان کے خلاف AIMIM کی کارروائی کا تعلق مبینہ ویڈیو تنازع سے ہے یا نہیں۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں پارٹی کارروائی کو ویڈیو لیک تنازعہ سے جوڑا گیا ہے، تاہم AIMIM کے باضابطہ بیان میں اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ پارٹی نے صرف اخراج اور قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی ہدایت کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح پولیس نے بھی مبینہ ویڈیو کے اصل مواد یا اس کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں گردش کررہی ہیں، لیکن ان دعوؤں کی آزادانہ یا سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے غیرمصدقہ دعوؤں کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

مرزا رحمت بیگ حیدرآباد لوکل اتھارٹیز حلقے سے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ انہیں 2023 میں کونسل کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور ان کی میعاد 2029 تک مقرر تھی۔ اب AIMIM کی جانب سے پارٹی سے اخراج کے ساتھ انہیں کونسل کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

تاہم یہ بات اہم ہے کہ صرف پارٹی سے اخراج کے نتیجے میں قانون ساز کونسل کی رکنیت خود بخود ختم نہیں ہوجاتی؛ اس سلسلے میں استعفیٰ، اس کی منظوری اور متعلقہ قانونی و آئینی طریقۂ کار اہم ہوگا۔ فی الحال پارٹی نے انہیں اپنا استعفیٰ چیئرمین کو فوری طور پر پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

اس پورے معاملے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ AIMIM نے مرزا رحمت بیگ کے خلاف اتنی سخت کارروائی کی وجہ باضابطہ طور پر واضح نہیں کی ہے۔ پارٹی کے بیان میں نہ کسی مخصوص شکایت کا ذکر ہے اور نہ ہی مبینہ ویڈیو کے بارے میں کوئی تفصیل دی گئی ہے۔

دوسری جانب، ان کے سائبر کرائم پولیس سے رجوع کرنے اور اس کے فوراً بعد پارٹی سے اخراج کے باعث دونوں واقعات کے درمیان تعلق کے بارے میں سوالات ضرور اٹھ رہے ہیں، لیکن ابھی تک AIMIM نے یہ نہیں کہا کہ سائبر کرائم شکایت ہی ان کے اخراج کی وجہ تھی۔

فی الحال معاملے کے دو پہلو الگ الگ زیرِ تفتیش ہیں: ایک طرف مرزا رحمت بیگ کی جانب سے مبینہ ڈیپ فیک اور مورف شدہ تصاویر کے ذریعے بلیک میلنگ کی شکایت ہے، جبکہ دوسری طرف AIMIM کا انہیں پارٹی سے نکالنے اور قانون ساز کونسل سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ ہے۔ دونوں کے درمیان براہِ راست تعلق کی حتمی تصدیق پارٹی یا پولیس کی جانب سے سامنے آنا باقی ہے۔

یہ معاملہ اب حیدرآباد کی سیاسی فضا میں خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے اور آئندہ پولیس تحقیقات، پارٹی کی مزید وضاحت اور مرزا رحمت بیگ کے ردعمل سے اس پوری کارروائی کی اصل وجہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں