ممبئی کے سرکاری اسپتال میں برقعہ پوش مسلم خواتین کو داخلہ سے روک دیا گیا؟ شدت پسند و نفرت انگیز حرکت پر مسلمانوں کا شدید ردعمل!

حیدرآباد (دکن فائلز) ممبئی کے بی ایم سی کے زیر انتظام آر این کوپر اسپتال میں برقع پوش دو مسلم خواتین کو مبینہ طور پر داخل ہونے سے روکنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد موضوع بحث بن گیا ہے۔ ویڈیو میں اسپتال کے سکیورٹی اہلکاروں اور خواتین کے درمیان بحث ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے تاحال واقعے یا برقع اتارنے کے مبینہ مطالبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے اور پولیس میں بھی شکایت درج ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

وائرل ویڈیو میں ایڈووکیٹ زہرا شیخ اور ان کی ایک ساتھی کو اسپتال میں اپنے ایک رشتہ دار سے ملاقات کے لیے پہنچتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ گیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں داخلے سے روکا اور برقع ہٹانے کے لیے کہا۔ خاتون وکیل نے مبینہ مطالبے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کسی خاتون کے مذہبی لباس کو ہٹانے کے لیے مجبور کرنا اس کی عزت، شخصی وقار اور مذہبی آزادی کے حق سے متعلق سنگین سوال پیدا کرتا ہے۔

اگر کسی اسپتال میں سکیورٹی کے حقیقی تقاضے ہوں تو شناخت کی تصدیق کے لیے مناسب اور باوقار طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے، لیکن کسی مخصوص مذہبی لباس یا مذہبی شناخت کو بلاجواز ہدف بنانا انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت عمل ہے۔

مسلم خواتین کے خلاف کی گئی نفرت انگیز حرکت کے خلاف مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مسلمان خواتین کے لیے حجاب، پردہ اور برقعہ محض لباس نہیں بلکہ مذہبی عقیدہ، حیا، وقار اور شخصی شناخت سے وابستہ معاملات ہوسکتے ہیں۔ ہر خاتون اپنے دینی فہم اور حالات کے مطابق لباس کا انتخاب کرتی ہے اور اس انتخاب کا احترام ایک مہذب اور کثیر مذہبی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔

ہندوستان جیسے متنوع ملک میں کسی مسلمان خاتون کے حجاب یا پردے کو نفرت، تحقیر یا غیر ضروری شبہے کی نگاہ سے دیکھنا معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ حجاب اختیار کرنے والی خواتین کو بھی وہی عزت، تحفظ اور وقار ملنا چاہیے جو ملک کی ہر دوسری شہری کو حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں