حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ناندیڑ ضلع میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی رہنما اجیت پوار پر سخت حملہ کیا۔
اویسی نے کہا کہ جو شخص اپنے ہی چچا شرد پوار کا وفادار نہیں رہ سکا، اس سے عوام کے ساتھ وفاداری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اجیت پوار نے اسی شخصیت کو چھوڑ دیا جس نے انہیں سیاست میں مقام اور پہچان دی۔
اویسی نے مبینہ بدعنوانی کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجیت پوار خود مان چکے ہیں کہ ان پر 75 ہزار کروڑ روپے کی خردبرد کے الزامات ہیں، مگر اگر وہ مسلمان ہوتے تو دہائیوں سے جیل میں ہوتے۔ انہوں نے اسے اقتدار اور اقلیتوں کے درمیان عدم مساوات کی مثال قرار دیا۔
اسی خطاب میں اویسی نے سینئر کانگریس رہنما اشوک چوان کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ چوان نہ خود احتسابی کے لیے تیار ہیں اور نہ اصلاح کے لیے۔ اویسی نے یاد دلایا کہ اشوک چوان کو آدرش ہاؤسنگ اسکام کے سبب وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت کے باوجود اشوک چوان کو مرکزی حکومت میں وزیر مملکت تک نہیں بنایا گیا۔
اویسی نے ناندیڑ کے ووٹروں کو خبردار کیا کہ سیاسی دوغلاپن مہنگا پڑ سکتا ہے، اور کہا کہ مجلس کی مہاراشٹر میں سیاسی پیش رفت کا آغاز ناندیڑ سے ہوا تھا جو آج ممبئی تک پھیل چکی ہے۔


