بڑی خبر: نیپال میں مسجد پر حملہ، توڑ پھوڑ اور قرآن پاک کی بے حرمتی! فرقہ پرست شدت پسندوں کے خلاف مسلمانوں کا زبردست احتجاج، سرحدی علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) نیپال کے جنوبی سرحدی علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ پَرسہ ضلع کے شہر بیرگنج اور دھنوشا کے بعض علاقوں میں ایک مسجد پر حملہ، توڑ پھوڑ اور قرآنِ پاک کے نسخے کی مبینہ بے حرمتی کے بعد شدید احتجاج شروع ہو گیا، جو بعد میں تشدد میں بدل گیا۔ اس افسوسناک واقعہ نے نہ صرف نیپال بلکہ بھارت-نیپال سرحدی علاقوں میں بھی سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ تنازع اس وقت بھڑکا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جسے مختلف حلقوں نے مذہبی جذبات مجروح کرنے والا قرار دیا۔ ویڈیو کے بعد حالات اس قدر بگڑے کہ دھنوشا ضلع کے کاملا میونسپلٹی کے سخووا مران علاقے میں واقع ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور قرآنِ پاک کی بے حرمتی کی اطلاعات سامنے آئیں، جس پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا۔

احتجاج کے دوران بیرگنج شہر میں حالات بے قابو ہو گئے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، پتھراؤ کیا گیا اور پولیس اسٹیشن کے سامنے شدید احتجاج کیا گیا۔ صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے۔ انتظامیہ نے بیرگنج اور اطراف کے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے، جبکہ اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحد کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ رکسول سمیت تمام سرحدی گزرگاہوں پر عام شہریوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے، صرف ہنگامی خدمات کو اجازت دی جا رہی ہے۔ سشستر سیما بل (SSB) نے سرحد پر سخت نگرانی شروع کر دی ہے اور میتری پل سمیت دیگر حساس مقامات پر چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2008109693387030893

اس کشیدگی کے باعث نیپال میں کام کرنے والے کئی ہندوستانی مزدور بھی واپس لوٹنے لگے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق بیرگنج میں دکانیں اور بازار مکمل طور پر بند ہیں اور خوف و بے یقینی کی فضا قائم ہے۔ مسجد پر حملہ اور قرآنِ پاک کی بے حرمتی ایک نہایت قابلِ مذمت اور دل خراش فعل ہے۔ مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا اور مقدس کتابوں کی توہین کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں اور یہ عمل سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف اقلیتوں کے احساسِ تحفظ کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ نیپال کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کریں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور مذہبی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی تمام فریقوں کو امن و امان برقرار رکھنے کےلئے آگے آنا چاہئے۔ فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں