انا للہ و انا الیہ راجعون۔
حیدرآباد (دکن فائلز) اردو صحافت کی دنیا آج ایک عظیم اور معتبر آواز سے محروم ہو گئی۔ حیدرآباد دکن کے بزرگ، سینئر اور نہایت معروف صحافی جناب ایم۔ اے۔ رحیم طویل علالت کے بعد آج اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی صحافتی، ادبی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
مرحوم ایم۔ اے۔ رحیم کو بالخصوص کھیل کی صحافت میں غیر معمولی مہارت اور گہری بصیرت حاصل تھی۔ کھیلوں کی خبروں، تجزیوں اور رپورٹنگ میں ان کا اسلوب نہ صرف معلوماتی بلکہ وقار اور دیانت کی اعلیٰ مثال سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک صحافتی میدان میں خدمات انجام دیں اور اپنے علم، تجربے اور اصول پسندی کی بدولت حیدرآباد دکن کے سینئر اور نامور صحافیوں میں اپنا ممتاز مقام بنایا۔
ان کی طویل اور مثالی صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے متعدد اعزازات اور انعامات سے بھی نوازا گیا۔ وہ نئی نسل کے صحافیوں کے لیے ایک مشفق رہنما اور استاد کی حیثیت رکھتے تھے، جو ہمیشہ سچائی، ذمہ داری اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت پر زور دیتے رہے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ چہارشنبہ، 7 جنوری 2026 کو بعد نمازِ ظہر، دوپہر ایک بجکر 15 منٹ پر جامع مسجد، اے سی گارڈز، نزد مہاویر ہاسپٹل حیدرآباد ادا کی جائے گی۔ تدفین اے سی گارڈز قبرستان، کے جی این زیروکس کے قریب، خیرت آباد میں عمل میں آئے گی۔
ایم۔ اے۔ رحیم کا انتقال اردو صحافت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین، عزیز و اقارب اور صحافتی برادری کو یہ صدمہ صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید تفصیلات کے لیے مرحوم کے پوتے منہل محمد خلیفہ سے فون نمبر 9885456410 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


