حیدرآباد (دکن فائلز) سابق وزیراعلیٰ کے سی آر کی بیٹی اور نظام آباد مقامی ادارہ جاتی ایم ایل سی کے کویتا کا استعفیٰ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین جی سکھندر ریڈی نے منظور کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں کونسل کے سکریٹری وی نرسمہا چاریولو نے باضابطہ احکامات جاری کیے۔
کویتا سال 2021 میں دوسری مرتبہ ایم ایل سی منتخب ہوئی تھیں، تاہم پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے اختلافات کے باعث وہ کچھ عرصے سے بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) سے دور تھیں۔ پارٹی کے اہم رہنماؤں ہریش راؤ اور سنتوش راؤ کو نشانہ بناتے ہوئے سخت تنقید کرنے پر گزشتہ ستمبر میں بی آر ایس نے کویتا کو معطل کر دیا تھا۔
معطلی کے فوراً بعد کویتا نے نہ صرف ایم ایل سی عہدے بلکہ پارٹی کی بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔ پیر کے روز وہ خود قانون ساز کونسل پہنچیں اور چیئرمین سے اپنے استعفیٰ کی منظوری کی درخواست کی، جس کے بعد یہ عمل مکمل ہوا۔ اس کے ساتھ ہی بی آر ایس کے ساتھ ان کا طویل سیاسی وابستہ باضابطہ طور پر ختم ہوگیا۔
سیاسی اتار چڑھاؤ کے بعد کویتا نے اپنی توجہ دوبارہ ’’تلنگانہ جاگرتی‘‘ تنظیم پر مرکوز کر دی ہے۔ منگل کے روز انہوں نے تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا، جس میں ’’سماجی تلنگانہ‘‘ کے حصول کو مرکزی مقصد قرار دیا گیا۔
اجلاس میں بجٹ، روزگار، صحت، خواتین کو بااختیار بنانے اور تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں کی فلاح و بہبود جیسے موضوعات پر تحقیق کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ ان کمیٹیوں کی نگرانی کے لیے ایل۔ روپ سنگھ کی صدارت میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ کویتا نے بتایا کہ تمام کمیٹیاں 17 تاریخ تک اپنی رپورٹس پیش کریں گی، جس کے بعد آئندہ تحریک کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔


