حیدرآباد (دکن فائلز) مقدس ماہِ رمضان المبارک کی آمد سے قبل شہرِ حیدرآباد کی شان اور عظیم تاریخی ورثہ مکہ مسجد میں شاندار، منظم اور مثالی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے تلنگانہ کے وزیرِ اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے خود قیادت کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی معائنہ اور جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر مختلف محکموں کے سینئر عہدیداران کو واضح اور دو ٹوک ہدایات دی گئیں کہ رمضان سے قبل تمام زیرِ التواء کام ہر صورت مکمل کیے جائیں۔
اس اہم موقع پر ٹمریز (TMRIES) کے چیئرمین فہیم قریشی، چارمینار کے رکنِ اسمبلی ذوالفقار علی کے علاوہ پولیس، جی ایچ ایم سی، وقف بورڈ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ وزیر موصوف نے ہر شعبے کے انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور صفائی، پینے کے پانی، روشنی، بجلی، نکاسیٔ آب، سیکیورٹی اور نمازیوں کے لیے بنیادی سہولتوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی۔
اظہرالدین نے افسران کو سخت مگر مثبت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ رمضان کے دوران لاکھوں نمازیوں اور زائرین کی آمد متوقع ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی لاپروائی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکہ مسجد میں آنے والے نمازیوں کو سہولت، تحفظ اور روحانی سکون فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیرِ اقلیتی بہبود نے یقین دلایا کہ تلنگانہ حکومت مسلم برادری کے جذبات اور ضروریات کو پوری طرح سمجھتی ہے اور رمضان المبارک کے دوران بہترین انتظامات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو ہجوم پر قابو (Crowd Management) اور سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کے لیے مسلسل چوکس رہنے کی ہدایت بھی دی۔
مقامی عوام اور نمازیوں نے وزیر اظہرالدین کی ذاتی دلچسپی اور فعال قیادت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سال رمضان المبارک کے دوران مکہ مسجد میں پہلے سے کہیں زیادہ بہتر، منظم اور پُرسکون ماحول میسر آئے گا۔ تاہم، اس اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات جناب محمد علی شبیر کی عدم موجودگی نمایاں رہی، جسے صحافتی و عوامی حلقوں میں نوٹ کیا گیا۔ ان کی عدم شرکت پر مختلف سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔


