آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔: دہلی میں وقف املاک کی مسماری محض شروعات! اسدالدین اویسی نے وقف ترمیمی ایکٹ کو ’کالا قانون‘ قرار دیا (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی میں ایک مسجد کی وقف ملکیت والی زمین کے ایک حصے کو مسمار کیا گیا ہے اور اس کے لیے انہوں نے وقف (ترمیمی) قانون کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جسے انہوں نے ’’کالا قانون‘‘ قرار دیا۔

دہلی کے رام لیلا میدان علاقہ میں واقع فیضِ الٰہی مسجد کے قریب منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد کہ ترکمان گیٹ کے سامنے واقع مسجد کو منہدم کیا جا رہا ہے، بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

اورنگ آباد میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا، “رات ڈیڑھ بجے ترکمان گیٹ کے قریب واقع ایک مسجد کی جائیداد کو منہدم کیا گیا۔ یہ زمین 1970 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق وقف پراپرٹی ہے۔ پارلیمنٹ میں وقف ایکٹ کی منظوری کے بعد یہ مسماری محض شروعات ہے۔ لوگوں کو ملک میں ہونے والے واقعات کو سمجھنا ہوگا اور ووٹ کے ذریعہ حکمران جماعتوں کو سخت پیغام دینا ہوگا۔”

اویسی نے الزام لگایا کہ دہلی ہائی کورٹ نے 1970 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے باوجود غلط فیصلہ دیا۔ “ہائی کورٹ کو مسجد کی ملکیت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی وقف بورڈ نے بھی نظرثانی کی درخواست دائر نہ کر کے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ لے جایا جائے گا۔”

اویسی نے مزید الزام لگایا کہ وقف ایکٹ کو مسلمانوں کی مذہبی جائیدادیں، مساجد اور قبرستان چھیننے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ “یہ قانون وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکناتھ شندے، اجیت پوار اور چندرابابو نائیڈو کی حمایت سے بنایا ہے۔ دہلی میں جو کچھ ہوا، وہ صرف آغاز ہے۔”

انہوں نے مہاراشٹر کے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس، نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کے خلاف ووٹ دیں۔ “اگر لوگ اپنی مذہبی جگہوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو انہیں اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،”

آئینی اقدار پر بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ آئین کا دیباچہ “ہم، عوام” سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ “بھارت ماتا” سے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے افکار، جیسے آزادیٔ فکر، عقیدہ، اظہار اور مذہب پر بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا، “امبیڈکر نے لکھا تھا کہ یہ ملک سب کا ہے، لیکن کسی نے یہ بات نہیں کہی۔” اویسی نے مزید کہا کہ آئین مسلمانوں کو اللہ کی عبادت کی اجازت دیتا ہے۔ “پارلیمنٹ میں کسی مسلم رکن نے یہ بات نہیں کہی، میں نے کہی۔ میں نے کہا کہ ہم صرف ‘لا الٰہ الا اللہ’ کہیں گے۔ میں نے نہ اپنے دین کے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیا اور نہ آئین پر۔”

مہاراشٹر اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے بھی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو پچھلے لوک سبھا انتخابات میں اندرونی اختلافات کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ “وہی گروپ اب بلدیاتی انتخابات میں بھی سرگرم ہے۔ اس بار ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں — سیاسی مخالفین کے خلاف اور اپنی صفوں کے اندر موجود عناصر کے خلاف۔”

اپنی گاڑی پر حالیہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے جلیل نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم کو دھمکایا نہیں جا سکتا۔ “غیر قانونی کاروبار میں ملوث لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں ڈرا سکتے ہیں، لیکن ہم نے ریلی مکمل کی۔ پولیس کو کارروائی کرنی چاہیے، ہم اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔”

اسدالدین اویسی نے بھی اس واقعہ پر سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، “میں آئندہ چند دنوں میں اس علاقے کا دورہ کروں گا۔ میں کسی سے نہیں ڈرتا، میں ہمیشہ وہاں جاتا ہوں جہاں مجھے چیلنج کیا جاتا ہے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں