آسام بنگالی مسلم خاندانوں کے 1200 سے زائد مکانات منہدم، دل دہلادینے والے مناظر، ہندوتوا شدت پسندوں کی اشتعال انگیزی (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) آسام کے سونت پور ضلع میں ریاستی انتظامیہ نے دو روزہ بے دخلی انتہائی متنازعہ مہم کے دوران بنگالی مسلم خاندانوں کے 1200 سے زائد مکانات منہدم کر دیے۔ اس موقع پر دل دہلادینے والے مناظر دیکھے گئے۔ مسلم خواتین کی جانب سے اپنے گھربار لٹنے پر افسوس اور غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی 5 اور 6 جنوری کو بردھاچپوری وائلڈ لائف سینکچری کے اندر اور اس کے اطراف میں واقع علاقوں میں کی گئی، جہاں حکومت کے مطابق محفوظ جنگلاتی زمین پر غیر قانونی تجاوزات قائم تھیں۔

کاروائی کے بعد کچھ ہندوتوا شدت پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بلڈوزر کاروائی پر ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے اشتعال انگیزی پھیلائی جارہی ہے اور مسلم مخالف بیانات دیئے جارہے ہیں لیکن پولیس اور انتظامیہ کی نفرت بھڑکانے اور دہشت پھیلانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔

ملت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد سینکچری کے اندر تقریباً 650 ہیکٹیئر زمین کو تجاوزات سے پاک کرنا تھا۔ یہ مہم تیزپور صدر اور دھیکیجولی ریونیو سرکل کے تحت آنے والے کئی دیہاتوں میں چلائی گئی، جن میں جموکتول، اری ماری، سیالی چر، باغیٹا پو، گلاتی دوبی، لاتھی ماری، کندولی چر، پوربا دوبرا ماری اور بتولی چر شامل ہیں۔

ضلعی حکام کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں لوگوں نے جنگلاتی حدود کے اندر مکانات تعمیر کیے تھے اور زرعی زمین پر کاشتکاری بھی کی جا رہی تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل کئی خاندانوں نے اپنے مکانات خود ہی خالی کر دیے اور علاقہ چھوڑ دیا، جبکہ کچھ لوگ شدید سردی اور کھڑی فصل کی کٹائی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید وقت کی درخواست کرتے رہے۔

ان درخواستوں کے باوجود انتظامیہ نے بے دخلی کی کارروائی جاری رکھی۔ سونت پور کے ڈپٹی کمشنر آنند کمار داس نے کہا کہ چونکہ یہ زمین جنگلاتی حدود میں آتی ہے، اس لیے وہاں کسی کو رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہ تازہ بے دخلی مہم فروری میں ہونے والی ایک بڑی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے، جب اسی سینکچری اور اس سے متصل علاقوں میں 2000 ہیکٹیئر سے زائد زمین خالی کرائی گئی تھی۔ 2016 میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے آسام کے مختلف اضلاع میں اس نوعیت کی بے دخلی مہمات چلائی جا رہی ہیں، جن کا اثر زیادہ تر بنگالی بولنے والے مسلم اکثریتی علاقوں پر پڑا ہے۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2008136954848870751

وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے مطابق، اب تک ریاست بھر میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار بیگھا زمین تجاوزات سے آزاد کرائی جا چکی ہے۔ دوسری جانب بے گھر ہونے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے ان علاقوں میں آباد تھے اور ان کے آباؤ اجداد برہم پتر ندی کے کٹاؤ کی وجہ سے اپنی زمینیں کھو کر یہاں آ بسے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں