حیدرآباد (دکن فائلز) سعودی عرب نے مقدس اسلامی اقدار کے تحفظ اور احترام کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور حساس فیصلہ کرتے ہوئے تجارتی مصنوعات کی پیکنگ پر اسمائے حسنیٰ اور لفظِ جلالہ (اللہ) کی طباعت و تحریر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس خدشے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے کہ ایسی اشیاء کا انجام اکثر غیر مناسب استعمال یا تلفی کی صورت میں ہوتا ہے، جو مقدس ناموں کے امتهان کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ اعلان وزارتِ تجارت کے سرکاری ترجمان عبدالرحمن الحسین نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا: “اسمائے حسنیٰ اور لفظِ جلالہ کے احترام اور تحفظ کے پیشِ نظر، تمام تجارتی اداروں پر پابندی عائد کی جاتی ہے کہ وہ ایسے نام کسی بھی ایسی چیز پر تحریر نہ کریں جو توہین کا سبب بن سکتی ہو، جیسے تھیلیاں اور پیکنگ میٹریل، جن کا انجام غیر مناسب استعمال ہوتا ہے۔”
قواعد کے مطابق اللہ تعالیٰ کے اسماء کے استعمال کو بھی محدود کر دیا گیا ہے اور صرف 7 ناموں السلام، العدل، الاول، النور، الحق، الشہید اور الملک کو عوامی سہولیات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق یہ پابندی خاص طور پر: پلاسٹک اور کاغذی تھیلیوں، پیکنگ ریپرز اور کورز، ایسی اشیاء جو جلد ضائع یا کوڑے میں پھینک دی جاتی ہیں، پر لاگو ہوگی، کیونکہ یہ اشیاء اکثر غیر محتاط انداز میں استعمال ہوتی ہیں اور بالآخر تلف ہو جاتی ہیں۔
سعودی اتحادِ ایوانِ تجارت (اتحاد الغرف السعودیة) نے تمام تجارتی اداروں، دکانوں اور فیکٹریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ان تمام پیکنگ ڈیزائنز اور مطبوعات کو ہٹا دیں جو ان ہدایات کے منافی ہوں۔ مزید خبردار کیا گیا ہے کہ جو ادارے ان احکامات کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
اتحادِ ایوانِ تجارت کے مطابق یہ فیصلہ کوئی نیا نہیں بلکہ 1407ھ اور 1415ھ میں جاری کردہ سابقہ سرکاری تعمیمات کا تسلسل ہے، جن میں “منعِ وقائی” کے اصول کے تحت ہر اس عمل کو روکنے کی ہدایت دی گئی تھی جو قرآنی آیات یا مقدس ناموں کی بیحرمتی کا سبب بن سکتا ہو۔
یہ اقدام اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء کی ان فتاویٰ کی روشنی میں بھی اٹھایا گیا ہے جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسمائے الٰہی یا صفاتِ الٰہی کو ایسی جگہ استعمال کرنا حرام ہے جہاں ان کی بے حرمتی یا توہین کا اندیشہ ہو، خواہ نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔
وزارتِ تجارت نے یاد دلایا کہ تجارتی ناموں سے متعلق قانون کے تحت بھی کسی کاروباری نام یا برانڈ میں اسمائے حسنیٰ، سرکاری اداروں کے نام، یا ممنوعہ الفاظ کا استعمال جائز نہیں، اور اس حوالے سے سخت ضوابط نافذ ہیں۔ وزارتِ تجارت کے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ صارفین اور مذہبی حلقوں نے اسے ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے ان تجارتی اداروں کی نشاندہی بھی کی جہاں اس نوعیت کے نام پیکنگ پر استعمال ہو رہے تھے۔


