ایران پر امریکہ کا حملہ؟ امریکی شہریوں کو فوری اسلامی جمہوریہ سے انخلا کا حکم، وائٹ ہاؤس میں شدید اختلافات کے درمیان پینٹاگون نے متعدد آپشنز ٹرمپ کے سامنے رکھ دیے

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکہ نے اپنے تمام شہریوں کو ’فوری طور پر‘ ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے اندر ایران پر ممکنہ فوجی حملے یا سفارتی مذاکرات کے حوالے سے کھلے اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ اسی دوران پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایران کے خلاف متعدد فوجی اور غیر فوجی آپشنزپیش کر دیے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیروں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں حملے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تاہم نائب صدر اور بعض اعلیٰ حکام کا مؤقف ہے کہ محدود یا مکمل فوجی کارروائی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

ایک معروف امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے تاحال کوئی حتمی فیصلہنہیں کیا۔ اگرچہ وہ اس وقت فوجی کارروائی کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں، تاہم حالات کے مطابق ان کا فیصلہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ بعض حکام کے مطابق صدر پہلے **محدود حملے** کا حکم دے سکتے ہیں، جس کے بعد مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

ایران میں بگڑتی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر امریکی محکمہ خارجہ اور تہران میں امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنےکی ہدایت جاری کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں میں شدت آ رہی ہے، جو مزید تشدد، گرفتاریوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں بدل سکتی ہے۔

امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر فضائی راستے دستیاب نہ ہوں تو آرمینیا یا ترکیہ کے ذریعہ زمینی راستے اختیار کریں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق ایران میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، سڑکیں بند ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ متاثر ہے اور انٹرنیٹ و مواصلاتی نظام شدید حد تک محدودہو چکا ہے۔

کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے ایران کے لیے پروازیں محدود یا منسوخ کر دی ہیں، جبکہ بعض کمپنیوں نے 16 جنوری تک سروس معطلکرنے کا اعلان کیا ہے۔ جو امریکی شہری فی الحال ایران چھوڑنے سے قاصر ہیں، انہیں گھروں یا محفوظ عمارتوں میں رہنے، پانی، ادویات اور ضروری سامان ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کی دوہری شہریترکھنے والے افراد ایران سے روانگی کے وقت ایرانی پاسپورٹاستعمال کریں، کیونکہ ایران دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کو ایران میں پوچھ گچھ، گرفتاری اور طویل حراستکا سنگین خطرہ لاحق ہے، جبکہ امریکی پاسپورٹ دکھانا یا امریکہ سے تعلق ظاہر کرنا بھی گرفتاری کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ سخت وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ صدر کے مطابق ایرانی قیادت نے رابطہ کیا ہے اور بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے، حتیٰ کہ ایک ممکنہ ملاقات کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ملاقات سے قبل حالات کے پیش نظر کسی کارروائی کی ضرورتبھی پیش آ سکتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ فوجی حملے کی صورت میں سخت اور فوری جواب دینے کا انتباہ بھی جاری کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی صورتحال قابو میں ہے، جبکہ اس سے قبل ایران واضح کر چکا ہے کہ امریکی حملے کا فی الفور اور شدید ردِعمل دیا جائے گا۔

ایران میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے دوران مکمل انٹرنیٹ بند ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک 500 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 10 ہزار افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ایران کے پولیس چیف احمد رضا رادان نے سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ مظاہرین کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں اور ہفتے کی رات فسادات میں ملوث اہم افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے ہلاکتوں کی بڑی تعداد کا ذمہ دار سیکیورٹی فورسز کے بجائے “تربیت یافتہ اور منظم عناصر” کو قرار دیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کے مطابق گرفتار افراد کو قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد سزا دی جائے گی۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے سامنے ایران کے خلاف متعدد آپشنز رکھے ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ فضائی حملے، سائبر حملے، ایران کے اندرونی سیکیورٹی نظام کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی شامل ہیں۔

پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ حملے چند دنوں کے اندر ممکن ہیں اور صدر کو منگل کے روز ان آپشنز پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ اسی دوران ایرانی سرحد کے قریب امریکی بمبار طیاروں کی پروازوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ فضائی حملے متعدد آپشنز میں سے ایک ہیں، تاہم صدر کے لیے سفارتکاری اب بھی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت کے عوامی بیانات اور نجی پیغامات میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جسے صدر سمجھنا چاہتے ہیں۔

ادھر ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملے کی دھمکی پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی فورسز کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اتوار کی رات کہا تھا کہ ایران نے ان کی ریڈ لائن عبورکر لی ہے اور مظاہرین پر مہلک طاقت کے استعمال کی صورت میں امریکہ ان کی مدد کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں گے، ان پر 25 فیصد ٹیرفعائد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں