حیدرآباد میں چینی مانجھے کا قہر، سنکرانتی کے موقع پر جان لیوا دھاگہ بن گیا عوام کے لیے خطرہ

حیدرآباد (دکن فائلز) سنکرانتی کے تہوار کے دوران پتنگ بازی خوشیوں کا پیغام لاتی ہے، مگر حیدرآباد میں ممنوعہ چینی مانجھا ان خوشیوں کو ماتم میں بدلتا نظر آ رہا ہے۔ شہر اور مضافاتی علاقوں میں ایک کے بعد ایک خطرناک واقعات سامنے آرہے ہیں، جن میں بزرگ، پولیس اہلکار اور نوجوان شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

تازہ واقعہ رنگا ریڈی ضلع کے میرپیٹ پولیس اسٹیشن حدود میں پیش آیا، جہاں مین روڈ پر سڑک کنارے پیدل چلنے والی 70 سالہ خاتون یادامّا کے پاؤں میں چینی مانجھا الجھ گیا۔ تیز دھار نائیلون دھاگے سے ان کا پاؤں بری طرح کٹ گیا اور شدید خون بہنے لگا۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر زخمی خاتون کو قریبی نجی اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

اسی دوران اوپل کے علاقے میں ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں پولیس اہلکار ناگ راجو چینی مانجھے کی زد میں آ گئے۔ وہ نمائش (نما ئش گراؤنڈ) ڈیوٹی کے لیے گھر سے روانہ ہو رہے تھے کہ اچانک چینی مانجھا ان کی گردن میں لپٹ گیا اور گلا گہرا کٹ گیا۔ شدید خون بہنے پر مقامی افراد نے انہیں فوری طور پر ایل بی نگر کے نجی اسپتال منتقل کیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔

شہر بھر میں اس طرح کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں، گزشتہ چند دنوں میں حیدرآباد کے مختلف علاقوں اپل، گچی باولی، عنبرپیٹ فلائی اوور، بوٹانیکل گارڈن، حفیظ پیٹ و دیگر علاقوں میں متعدد افراد چینی مانجھے کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوچکے ہیں، بعض کے ہاتھ، انگلیاں اور گردن تک کٹ گئی، جبکہ کئی پرندے بھی اس قاتل دھاگے کا شکار ہو چکے ہیں۔

تلنگانہ حکومت نے 2016 میں ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کے تحت چینی مانجھے کی تیاری، ذخیرہ، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی تھی، جس کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں کی سزا ہے۔ اس کے باوجود غیر قانونی طور پر اس کی فروخت جاری ہے۔

سنکرانتی سے قبل حیدرآباد پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد مقدمات درج کیے، 140 سے زائد افراد کو گرفتار کیا، ہزاروں بوبنز ضبط کیے، ضبط شدہ سامان کی مالیت کروڑوں روپے بتائی گئی۔

پولیس کمشنر وی سی سجنار نے واضح کیا ہے کہ چینی مانجھا انسانی جانوں، پرندوں، بجلی کے تاروں اور عوامی املاک کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آن لائن اور سوشل میڈیا کے ذریعے فروخت کرنے والوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

پولیس اور انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ چینی مانجھا ہرگز نہ خریدیں، صرف سوتی (کپاس) دھاگہ استعمال کریں، غیر قانونی فروخت کی اطلاع ڈائل 100 یا پولیس واٹس ایپ نمبر پر دیں۔ سنکرانتی خوشیوں کا تہوار ہے، مگر لاپرواہی اور ممنوعہ چینی مانجھے کا استعمال اسے موت کا پیغام بنا سکتا ہے۔ عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ خود بھی محتاط رہیں اور دوسروں کی جانوں کے تحفظ میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں