حیدرآباد (دکن فائلز) ایک ایسے وقت میں جب چین شکسگام وادی کو اپنی سرزمین قرار دے کر بھارت کی خودمختاری کو کھلے عام چیلنج کر رہا ہے، اسی دوران کمیونسٹ پارٹی آف چین (CPC) کا ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد دہلی میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے قائدین سے ملاقاتیں کرتا دکھائی دیا۔ اس پیش رفت نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور بی جے پی–آر ایس ایس کی پالیسیوں پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف چین کے بین الاقوامی شعبے کی نائب وزیر سن ہائیان کی قیادت میں وفد نے پیر، 12 جنوری کو بی جے پی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں پارٹی جنرل سیکریٹری ارون سنگھ کی قیادت میں بی جے پی وفد سے ملاقات ہوئی۔ بی جے پی کے شعبۂ خارجہ امور کے انچارج وجئے چوتھائی والے کے مطابق، اس ملاقات میں بی جے پی اور سی پی سی کے درمیان ’’بین پارٹی رابطوں کو آگے بڑھانے‘‘ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس اجلاس میں بھارت میں چین کے سفیر شو فی ہونگ بھی شریک تھے۔
اسی دن بیجنگ میں چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے دعویٰ کیا کہ شکسگام وادی چین کا حصہ ہے، حالانکہ یہ علاقہ بھارت کا ہے جسے پاکستان نے 1963 میں غیر قانونی طور پر چین کے حوالے کیا تھا۔ چین نے نہ صرف اس دعوے کا اعادہ کیا بلکہ وہاں انفراسٹرکچر تعمیر کو بھی ’’جائز‘‘ قرار دیا، جس پر بھارت نے شدید اعتراض درج کرایا۔
اس کے اگلے ہی دن، منگل کو چینی وفد نے دہلی کے پررینا بلاک میں آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسبولے سے ملاقات کی۔ آر ایس ایس ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ’’محض رسمی‘‘ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی خواہش پر ہوئی، جس کا کوئی طے شدہ ایجنڈا نہیں تھا۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی سے جڑے حساس حالات میں ایسی ملاقاتیں محض رسمی نہیں کہی جا سکتیں۔
کانگریس، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے دوغلی اور منافقانہ سیاست قرار دیا۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ جب چین مسلسل بھارتی سرحدوں پر دراندازی کر رہا ہے، گلوان میں ہمارے فوجیوں کی شہادت ہوئی، آپریشن سندور میں چین نے پاکستان کی کھلی مدد کی، تو پھر بی جے پی اور آر ایس ایس چین سے بند کمرے میں کیا بات کر رہی ہیں؟
کانگریس نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی اور سی پی سی کے درمیان ہونے والی تمام ملاقاتوں کا ایجنڈا، منٹس اور نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔ پون کھیڑا نے کہاکہ ’’ہمیں کسی پارٹی کے غیر ملکی جماعت سے بات چیت پر اعتراض نہیں، لیکن ہمیں بی جے پی کی نیت، اس کی دوغلی زبان اور خفیہ سودوں پر شدید اعتراض ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے بی جے پی ہیڈکوارٹر کی ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے طنزیہ سوال کیا کہ ’’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ چین لداخ میں قابض ہے، اروناچل میں گاؤں بسا رہا ہے، گلوان میں ہمارے جوان شہید ہوئے، پھر بھی بی جے پی قیادت چین کے ساتھ گلے ملتی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے براہِ راست سوال کیا کہ ’’بی جے پی نے ملک سے غداری کیوں کی؟ بی جے پی اور چین کے درمیان کون سا خفیہ معاہدہ ہوا ہے؟‘‘
ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن ساگاریکا گھوش نے بھی بی جے پی پر ڈبل اسٹینڈرڈ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر یہی ملاقات کسی اپوزیشن پارٹی کے دفتر میں ہوتی تو بی جے پی آسمان سر پر اٹھا لیتی۔
بی جے پی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات کھلے عام ہوئی ہے اور بھارت–چین تعلقات میں بہتری کے تناظر میں ہے۔ پارٹی ترجمان نلین کوہلی نے کانگریس پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ سرحدی مسائل کی جڑیں نہرو دور میں ہیں اور مودی حکومت انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


