’تکبر کا نتیجہ خواری – امریکہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور‘! ٹرمپ نے ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کردیا، اسرائیل ہٹ دھرمی پر قائم، ایران کے حوصلے بلند (تازہ صورتحال پر تفصیلی رپورٹ)

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے، امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں جنگ ختم کر کے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ صرف جوہری خطرے کا خاتمہ تھا اور ان کے مطابق یہ ہدف بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس قدر نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے چلا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ کو یقین ہو گیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے تو وہ کسی بھی معاہدے کے بغیر جنگ سے نکلنے میں دیر نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق “ڈیل ہو جائے تو بہتر، نہ ہو تو امریکہ کو اس کی ضرورت نہیں، بلکہ ایران کو زیادہ ضرورت ہے۔”

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات نمایاں
ادھر نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے جو کرنا تھا وہ کیا، ہم اپنے مشن پر قائم رہے اور ہم نے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا ہے۔”

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف جنگ کے مستقبل پر واضح اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف واشنگٹن جلد انخلا کا عندیہ دے رہا ہے، وہیں تل ابیب اپنی مہم جاری رکھنے کے موڈ میں دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ جنگ کے آغاز میں نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی ونس نے بھی حالیہ گفتگو میں اسرائیلی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے قبل خطرات اور نتائج کا اندازہ حقیقت سے مختلف پیش کیا گیا۔

جنگ کا پس منظر اور موجودہ صورتحال
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد خطے میں شدید جنگی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس دوران آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے تنازع کو مزید سنگین بنا دیا، اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تاہم اب حالات ایک نئے موڑ پر آتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں ایک طرف جنگ جاری ہے، تو دوسری طرف ممکنہ جنگ بندی اور انخلا کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ٹرمپ کا قوم سے خطاب اور اہم اعلان متوقع
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ آج رات قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران سے متعلق اہم پیش رفت اور ممکنہ حکمتِ عملی کا اعلان متوقع ہے۔ یہ خطاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے امکانات پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔

آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی خدشات
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسے محفوظ بنایا جا رہا ہے تاکہ دنیا کے ممالک بلا رکاوٹ تیل کی ترسیل جاری رکھ سکیں۔ یہ بیان عالمی معیشت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل سپلائی کا اہم ذریعہ ہے۔

داخلی معاملات پر بھی سخت مؤقف

اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے داخلی سیاست پر بھی بات کی اور ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سخت اقدامات کے باعث واشنگٹن ڈی سی میں جرائم کی شرح میں 98 فیصد کمی آئی ہے اور شہر کو محفوظ ترین علاقوں میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے میل اِن ووٹنگ کے نظام کو مزید سخت بنانے اور وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی بڑھانے کے احکامات بھی جاری کیے، جن میں جدید حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔

جنگ بندی کے امکانات اور مستقبل کا منظرنامہ
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو بھی اب بتدریج ایسی فضا بنا رہے ہیں جس سے جنگ کے ممکنہ خاتمے کا اشارہ ملتا ہے۔ اپنی حالیہ تقاریر میں وہ کامیابیوں کو اجاگر کر رہے ہیں، جسے ماہرین عوام کو جنگ کے اختتام کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

مجموعی طور پر صورتحال ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں:
* امریکا جلد انخلا چاہتا ہے
* اسرائیل اپنی کارروائیاں جاری رکھنا چاہتا ہے
* ایران پر دباؤ برقرار ہے
* اور عالمی برادری جنگ بندی کی امید لگائے بیٹھی ہے

آنے والے دنوں میں صدر ٹرمپ کا خطاب اور عالمی ردعمل اس جنگ کے مستقبل کا رخ متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں