اگر دشمن زمینی کارروائی کرے تو کوئی زندہ واپس نہ جائے: ایران کا دوٹوک پیغام، ’ہالی ووڈ کے فریب سے باہر نکل آئیں‘

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے امریکی دھمکیوں پر سخت اور واضح ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی عسکری قیادت نے نہ صرف امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ اپنی اسٹریٹجک طاقت پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ماجد موسوی نے امریکی صدر ٹرمپ اور سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی تہذیب کو مٹانے کا خواب دیکھنا محض خام خیالی ہے۔ انہوں نے امریکی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہالی ووڈ کے فریب نے آپ کے ذہنوں کو اس قدر متاثر کر دیا ہے کہ آپ اپنی محض ڈھائی سو سالہ تاریخ کے ساتھ چھ ہزار سال پرانی تہذیب کو دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’’پتھر کے دور میں واپس دھکیلنے‘‘ کی دھمکی دی تھی۔ اسی تناظر میں پیٹ ہیگسیتھ نے بھی سوشل میڈیا پر اسی نوعیت کا سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی نئی قیادت نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم اس پر غور اسی صورت ممکن ہے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی رکھی جائے۔

دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل امیر حاتمی نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے زمینی کارروائی کی کوشش کی تو اس کے فوجیوں کو زندہ واپس جانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے اعلیٰ عسکری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آپریشنل ہیڈ کوارٹرز کو ہدایت دی کہ دشمن کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنرل حاتمی نے فوجی کمانڈرز کو امریکہ اور اسرائیل کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی زمینی یا فضائی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائل، ڈرون اور جدید فضائی دفاعی نظام کے مراکز مکمل طور پر محفوظ اور دشمن کی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی عسکری پیداوار خفیہ اور محفوظ مقامات پر ہوتی ہے جن تک نہ تو امریکہ اور نہ ہی اسرائیل کی رسائی ممکن ہے۔

ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایران کی حساس عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ دشمن کی سنگین غلطی ہوگی، کیونکہ جن مقامات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں وہ درحقیقت غیر اہم ہیں، جبکہ اصل اسٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت محدود کر دی ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ بھارت اور چین سمیت کئی ممالک میں توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں