ایران میں گرنے والے امریکی ایف-15 طیارے کے دونوں پائلٹ بازیاب، ٹرمپ کا “تاریخی ریسکیو آپریشن” کا دعویٰ، ایران کا جوابی دعویٰ

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرنے والے امریکی جنگی طیارے ایگل F-15 کے لاپتہ عملے کے دونوں ارکان کو کامیابی کے ساتھ بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس کارروائی کو امریکی تاریخ کے “انتہائی جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز” میں سے ایک قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے چند گھنٹوں کے اندر ایک پیچیدہ اور خطرناک آپریشن کے ذریعے ایک سینئر افسر، جو کرنل کے عہدے پر فائز ہیں، کو بحفاظت نکال لیا۔ بعد ازاں انہوں نے اعلان کیا کہ دوسرے عملے کے رکن کو بھی ایران کے جنوب مغربی صوبے کہگیلویہ و بویراحمد سے بازیاب کر لیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ ایرانی حدود میں میزائل حملے کے نتیجے میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس کے بعد دونوں اہلکار پیراشوٹ کے ذریعے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ پہلا پائلٹ چند گھنٹوں میں بچا لیا گیا، جبکہ دوسرے اہلکار کو تلاش کرنے میں ایک دن سے زائد وقت لگا۔

امریکی حکام کے مطابق اسپیشل فورسز نے رات کی تاریکی میں خفیہ کارروائی کی، جس کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ آپریشن کے دوران علاقے کو امریکی طیاروں نے گھیرے میں لے رکھا تھا، جبکہ ڈرونز کے ذریعے ان ایرانی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا جو پائلٹ کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق اس مشن میں ماہر کمانڈوز یونٹ کو فضائی کور فراہم کیا گیا، جبکہ دو MC-130 طیارے مشن کے دوران پھنسنے کے باعث خود امریکی فوج نے تباہ کر دیے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی افواج اور ایرانی فوجیوں کے درمیان براہ راست جھڑپیں ہوئیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن نے اصل آپریشن سے قبل تہران کو گمراہ کرنے کے لیے ایک جعلی مہم بھی چلائی تاکہ ایران کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ پائلٹ پہلے ہی مل چکا ہے۔ اس دوران وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر کہا کہ اس مشن کے لیے دنیا کے جدید ترین اور مہلک ہتھیاروں سے لیس متعدد طیارے روانہ کیے گئے تھے، اور اب دونوں اہلکار مکمل طور پر محفوظ ہیں، اگرچہ ایک اہلکار معمولی زخمی ہوا ہے۔

دوسری جانب ایران نے اس واقعے پر مختلف دعوے کیے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی فوج نے ریسکیو آپریشن کے دوران ایک سی-130 طیارہ اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک اسرائیلی ڈرون تباہ کرنے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں پانچ ایرانی ہلاک بھی ہوئے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں جہاں انہیں شبہ تھا کہ امریکی پائلٹ موجود ہے، جبکہ پہلے ایران کی جانب سے دوسرے پائلٹ کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

ادھر عسکری ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں پائلٹس کو تربیت دی جاتی ہے، جس کے تحت وہ دشمن کے علاقے میں اترنے کے بعد خود کو چھپاتے، صورتحال کا جائزہ لیتے اور ریسکیو ٹیم سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ریٹائرڈ امریکی جنرل ہیوسٹن کینٹ ویل کے مطابق پائلٹ کے لیے زمین پر اترتے ہی سب سے اہم کام اپنی حفاظت، مقام کا تعین اور دشمن سے بچاؤ ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں