حیدرآباد (دکن فائلز) ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران عوامی سطح پر غیر معمولی ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں حکام کے مطابق لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں شہری دفاعِ وطن کے لیے میدان میں آنے کو تیار ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ (12 ملین) افراد نے ممکنہ جنگ کے پیش نظر رضاکارانہ طور پر اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے فوج میں شامل ہونے کی اپیل پر عوام نے فوری اور بھرپور ردعمل دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رجسٹریشن کا عمل بدستور جاری ہے اور ملک کے مختلف علاقوں سے شہریوں کی بڑی تعداد اس میں حصہ لے رہی ہے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ ایرانی عوام اپنی فوج اور ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ (14 ملین) ایرانی شہری، جن میں وہ خود بھی شامل ہیں، امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی زمینی حملے کی صورت میں اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ڈیڈ لائن دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ایران کی مجموعی آبادی تقریباً 9 کروڑ ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق ان بلند اعداد و شمار کا مقصد ممکنہ امریکی حملے کو روکنے کے لیے نفسیاتی دباؤ بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔


