حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان نے صورتحال کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں دونوں فریق اپنی اپنی “فتح” کے دعوے کر رہے ہیں۔ ایران نے اس پیش رفت کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے امریکا کو 10 نکاتی امن منصوبہ ماننے پر مجبور کر دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جنگ بندی کے بعد “100 فیصد فتح” حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس دورا ایران کی گلی گلی میں جشن منایا جارہا ہے۔ ایرانی مرد و خواتین اور بچے سڑکوں پر اتر آئے اور خوب جشن منایا اور نعرے لگائے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن کو اس “مجرمانہ جنگ” میں ناقابلِ تردید اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بیان کے مطابق ایران نے نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ سفارتی سطح پر بھی برتری حاصل کی اور امریکا کو ایک جامع 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر آمادہ کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق اس منصوبے میں امریکا کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو برقرار رکھنے، ایران کے جوہری پروگرام کے تحت افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے اور تمام بنیادی و ثانوی پابندیوں کے خاتمے جیسی اہم شقیں شامل ہیں۔ مزید برآں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں کو ختم کرنے، ایران کو جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے اور خطے سے امریکی افواج کے انخلا کی تجاویز بھی اس منصوبے کا حصہ بتائی گئی ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ لبنان کے خلاف تمام اسلامی محاذوں پر جنگ بندی کو یقینی بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کو امریکا کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد امریکا نے “100 فیصد فتح” حاصل کر لی ہے اور ایک طویل المدتی امن معاہدے کے لیے مضبوط فریم ورک تیار ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق زیر غور 15 نکاتی منصوبے میں سے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے جبکہ باقی معاملات پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری مواد کسی بھی حتمی معاہدے کا لازمی حصہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کے استحکام اور بحالی میں کردار ادا کرے گا، جبکہ ایران کو تعمیر نو کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایران کے 10 نکاتی منصوبے کی نمایاں شقیں درج ذیل ہیں:
* آبنائے ہرمز کو ایرانی نگرانی میں دوبارہ کھولنا
* خطے میں مزاحمتی اتحاد کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ
* امریکی افواج کا خطے سے مکمل انخلا
* محفوظ بحری ٹرانزٹ پروٹوکول کا قیام
* ایران کو جنگی نقصانات کا معاوضہ
* تمام اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ
* عالمی اداروں کی پابندیوں اور قراردادوں کا خاتمہ
* بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی
اگرچہ امریکی صدر نے ان میں سے بعض نکات کو “ناقابل قبول” قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے انہیں مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد تسلیم کرتے ہوئے ایران پر ممکنہ حملوں کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ کئی حوالوں سے امریکی خارجہ پالیسی کے روایتی مؤقف سے متصادم ہے، خاص طور پر خطے سے امریکی فوج کے انخلا اور ایران کو معاوضہ دینے جیسے مطالبات۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ کشیدہ حالات میں یہ پیشرفت کسی بڑے تصادم کو روکنے کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔


