“یا اللہ بچالو”: گاؤ کشی کا الزام اور پولیس گاڑی کے بونٹ سے باندھ کر تشدد، گجرات پولیس پر سنگین الزامات

حیدرآباد (دکن فائلز) احمد آباد ممرر کی رپورٹ کے مطابق احمد آباد میں ویجل پور پولیس ایک وائرل ویڈیو کے بعد شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جس میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو گاؤ کشی کے ایک ملزم کو پولیس گاڑی کے بونٹ سے باندھ کر سرِعام تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی اس ویڈیو نے نہ صرف انسانی حقوق سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ 2022 میں ضلع کھیڑا کے اسی نوعیت کے ایک متنازع واقعے کی یاد بھی تازہ کر دی ہے، جس پر گجرات ہائیکورٹ نے سخت ریمارکس دیے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ویجل پور پولیس نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک رہائشی علاقے کے قریب کھلے میدان میں مبینہ غیر قانونی گاؤ کشی کے مقام پر چھاپہ مارا۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو جھاڑیوں کے پیچھے گائیں ذبح کیے جانے کے شواہد ملے، جبکہ کارروائی کے دوران کئی افراد فرار ہو گئے۔ پولیس نے تین افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق موقع سے تقریباً 520 کیلو گوشت، ایک زندہ بچھڑا، تیز دھار چاقو، ایک آٹو رکشہ، بغیر نمبر پلیٹ کی کار اور موبائل فون برآمد کیا گیا۔ اس معاملے میں بھارتیہ نیایا سنہتا، گجرات اینیمل پریزرویشن ایکٹ اور پریوینشن آف کرویلٹی ٹو اینیملز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تاہم اس کارروائی کے بعد منظر عام پر آنے والی ویڈیوز نے پورے واقعہ کو نئی شکل دے دی ہے۔ وکیل نعمان غنچی نے الزام لگایا کہ پولیس نے پانچ افراد کو حراست میں لیا تھا، جن میں ساجد قریشی اور رئیس شیخ شامل تھے۔ رئیس شیخ، جو سرکھیج کے فتح واڑی علاقہ کے رہائشی اور دو کمسن بچوں کے والد ہیں، کو مبینہ طور پر پولیس نے سونل سنیما کے قریب گاڑی کے بونٹ سے باندھ کر بری طرح پیٹا۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دو پولیس اہلکار رئیس شیخ کے ہاتھ بونٹ پر پکڑے ہوئے ہیں جبکہ دیگر اہلکار لاٹھیوں سے ان پر تشدد کر رہے ہیں۔ وکیل کے مطابق یہ تمام افراد صرف مشتبہ تھے جبکہ اصل ملزم پولیس کارروائی کے دوران فرار ہو چکا تھا۔

ایک اور ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار ساجد قریشی کو مارتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیتا ہے کہ “اب کچھ یاد آیا یا نہیں؟”۔ وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ساجد اب معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس واقعے کا ذہنی صدمہ اب بھی ان کے ساتھ ہے۔

وکیل نعمان غنچی نے مزید الزام لگایا کہ گرفتار افراد کو منگل کی صبح باضابطہ طور پر عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ اس سے قبل انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ان کے مطابق پولیس نے متاثرین کو عدالت میں مارپیٹ کے بارے میں کچھ نہ بتانے کی دھمکیاں بھی دیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہل خانہ کو یہ کہہ کر خوفزدہ کیا گیا کہ اگر انہوں نے شکایت درج کرائی تو ان کے بچوں کو دوسرے مقدمات میں پھنسا دیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں تشدد کا نشانہ بننے والے شخص کو “یا اللہ بچالو” پکارتے ہوئے سنا جا سکتا ہے جبکہ پولیس اہلکار اسے لاٹھیوں سے مارتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس ویڈیو نے مقامی لوگوں، مسلمانوں اور انسانی حقوق کے کارکنان و قانونی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

نعمان غنچی نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق سرِعام تشدد اور ملزمین کی تذلیل کسی بھی صورت قانون کے دائرے میں جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے ایک پولیس اہلکار کے خلاف پہلے سے ہی ایک مبینہ حراستی موت کے معاملے میں انکوائری زیر التوا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے اب تک ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں