حیدرآباد (دکن فائلز) ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے مبینہ تعلقات کے الزام میں تقریباً دس برس قبل گرفتار کیے گئے معروف عالمِ دین مولانا عبد الرحمن کٹکی کو کٹک کی خصوصی سیشن عدالت نے تمام الزامات سے بری کر دیا۔ طویل قانونی جدوجہد، قید و بند اور مسلسل عدالتی کارروائیوں کے بعد آنے والے اس فیصلے کو جمعیۃ علماء ہند نے ’’حق و انصاف کی اہم فتح‘‘ قرار دیا ہے۔
مولانا عبد الرحمن کٹکی کے خلاف دہلی، جمشید پور اور کٹک میں مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان پر ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے سیشن عدالت سے لے کر سپریم کورٹ آف انڈیا تک ان کی قانونی پیروی کی۔
گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے مولانا عبد الرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے سیشن عدالت کو دو ماہ کے اندر مقدمے کی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے بعد سماعت میں تیزی لائی گئی، تفتیشی افسران اور دیگر گواہوں کے بیانات مکمل کیے گئے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو اب سنایا گیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی پیروی سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ استغاثہ کے کئی گواہ اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہو چکے ہیں، اس کے باوجود مولانا عبد الرحمن کٹکی کو برسوں تک جیل میں رہنا پڑا اور انہیں ضمانت بھی نہیں مل سکی۔
مولانا ارشد مدنی نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ بے بنیاد الزامات کے نتیجے میں کئی بے گناہ افراد کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبد الرحمن کٹکی اور ان کے اہلِ خانہ نے ایک دہائی بے یقینی، اذیت اور انتظار میں گزاری، جس کے بعد اب جا کر انصاف ملا ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے تفتیشی اداروں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک بے گناہوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، انصاف مکمل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو برسوں جیل میں رکھنے کے بعد اگر عدالت اسے بے قصور قرار دیتی ہے تو اس کے ذمہ داران کا احتساب بھی ضروری ہے۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے بھی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی طویل قانونی جدوجہد، مستقل مزاجی اور اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی مظلوم کا ساتھ نہیں چھوڑا اور سیشن کورٹ سے لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک ہر سطح پر مقدمہ پوری سنجیدگی سے لڑا گیا۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ صرف ایک مقدمے کا اختتام نہیں بلکہ ظلم، آزمائش، قید و بند، مسلسل عدالتی پیشیوں اور ناقابلِ بیان اذیتوں کے بعد حق و انصاف کی ایک اہم فتح ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس کامیابی میں وکلاء، ذمہ داران، کارکنان، مخیر حضرات اور ان تمام افراد کی قربانیاں شامل ہیں جنہوں نے خاموشی اور اخلاص کے ساتھ اس قانونی جنگ کو جاری رکھا۔
تنظیم نے ان تمام معاونین اور ملت کے درد مند افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی مالی مدد، دعاؤں اور حوصلہ افزائی نے اس جدوجہد کو زندہ رکھا۔ جمعیۃ علماء نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور تمام معاونین کو بہترین اجر و جزا عطا کرے۔


