(بشکریہ انقلاب) عید الاضحی قربانی کا تہوار ہے اور اس مرتبہ دارجلنگ ضلع کے چھوٹو نرمل جوت گائوں کے مقامی مسلمانوں نے واقعی اپنی عید کی قربانی دیتے ہوئے کنچن جنگا ایکسپریس میں پھنسے سیکڑوں مسافروں کو ڈبوں سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین میں پھنسے مسافروں کو جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے مقامی مسلم نوجوانوں نے ڈبوں سے باہر نکالا ، ان کا سامان بھی محفوظ رکھا۔
ان مسلم نوجوانوں نے نہ صرف عید کے دن یہ کارنامہ انجام دیا بلکہ وہ دن بھر ریلوے انتظامیہ کے ساتھ مدد میں پیش پیش رہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے سیکڑوں مسافروں کا سامان بھی محفوظ رکھا اور اسے بحفاظت پولیس کے حوالے کیا۔ اس بارے میں فضل الرحمان نامی نوجوان نے بتایا کہ ’’ہم نے صبح میں 8 بجے کے قریب عید کی نماز ادا کی تھی کہ ہمیں بہت زوردار دھماکے جیسی آواز سنائی دی ۔ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ ہو نہ ہو ریلوے ٹریک پر ہی کوئی حادثہ ہوا ہے جو گائوں سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔‘‘
فضل الرحمان کے مطابق نماز مکمل ہوتے ہی تمام گائوں والے ریلوے ٹریک کی طرف دوڑے جہاں ہم نے دیکھا کہ کنچن جنگا ایکسپریس کو مال گاڑی نے پیچھے سے ٹکر ماردی ہے اور ٹرین کے کئی ڈبوں ایک دوسرے پر چڑھ گئے ہیں۔ ان ڈبوں میں پھنسے مسافروں کے چیخنے ، خواتین اور بچوں کے رونے کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں۔ یہ آوازیں سننے کے بعد میرا تو کلیجہ ہی جیسے پھٹ گیا۔ عورتوں اور بچوں کی اتنی درد انگیز پکا ر میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنی تھی۔ پھر کیا تھاہم دوڑ پڑے اور مسافروں کو ڈبوں سے باہر نکالنے لگے ۔


