حیدرآباد (دکن فائلز) فلسطین کے نابلس میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا، جہاں 26 سالہ فلسطینی نوجوان نایف صمارو اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش سے صرف چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں شہید ہوگئے۔ اس سانحے نے ایک ایسے گھر کی خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا جو اپنے آنے والے ننھے مہمان کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھا۔
رپورٹس کے مطابق نایف صمارو کی اہلیہ اسپتال میں داخل تھیں اور ڈاکٹروں نے چند گھنٹوں بعد سیزیرین آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کا وقت مقرر کیا تھا۔ اسی دوران نایف اپنی بیوی اور نومولود بچے کے لیے ضروری سامان خریدنے گھر سے نکلا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق وہ اپنے پہلے بچے کی آمد پر بے حد خوش تھا اور مسلسل اس لمحے کا انتظار کر رہا تھا جب وہ اپنے بیٹے کو پہلی بار گود میں لے گا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق اسی دوران اسرائیلی فوج نے نابلس میں ایک چھاپہ مار کارروائی شروع کی۔ علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی اور فوجی مختلف گلیوں میں کارروائیاں کرتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نایف صمارو اسی دوران اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔ ایک گولی اس کے سر میں لگی جس کے بعد وہ سڑک پر گر پڑا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زخمی حالت میں نایف کافی دیر تک سڑک پر پڑا رہا اور شدید خون بہنے کے باعث اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔ اس کی شہادت کی خبر اسپتال میں موجود اہل خانہ تک پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ رہی کہ نایف اپنے بیٹے کو کبھی دیکھ نہ سکا۔ اس کی شہادت کے چند گھنٹے بعد اس کے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ ایک طرف نومولود بچے کی پہلی آواز گونج رہی تھی تو دوسری جانب باپ کی جدائی کا غم پورے خاندان کو توڑ رہا تھا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نایف نے اپنے آنے والے بچے کے لیے کئی خواب سجا رکھے تھے۔ وہ بار بار اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے کہتا تھا کہ وہ جلد باپ بننے والا ہے اور اپنے بچے کو بہترین زندگی دینا چاہتا ہے۔ مگر وہ خواب ادھورے رہ گئے۔ فلسطینیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہتے شہریوں پر فائرنگ اور عام فلسطینیوں کی جانوں کا ضیاع انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
نابلس میں اس واقعے کے بعد فضا سوگوار ہو گئی جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں افراد نے نایف صمارو کے لیے تعزیتی پیغامات جاری کئے گئے۔


