حیدرآباد (دکن فائلز) اسرائیلی حکام نے فلسطین ویمن فٹبال ٹیم کی دو بین الاقوامی کھلاڑیوں، رند الحلاوانی اور نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لے لیا ہے، جس کے بعد فلسطینی کھیلوں کے حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے اس اقدام کو فلسطینی ایتھلیٹس کو منظم انداز میں نشانہ بنانے کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے عالمی فٹبال ادارے فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی کھلاڑی نٹالی ابو دایہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ایک یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل پر اسرائیلی فوج کے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ہاسٹل میں داخل ہوکر متعدد کمروں کی تلاشی لی اور بعد ازاں نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب فلسطینی فٹبالر رند الحلاوانی کو مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس کی جانب سے طلب کیا گیا، جہاں انہیں پولیس اسٹیشن پہنچنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے دونوں کھلاڑیوں کی گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔
فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے ایک سخت ردعمل میں کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے کھلاڑیوں، کوچز اور دیگر ایتھلیٹس کو مسلسل ہراساں اور گرفتار کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف فلسطینی کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ بین الاقوامی کھیلوں کے اصولوں اور انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی ایتھلیٹس کو ان کی کھیلوں کی سرگرمیوں اور قومی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ عالمی ادارے اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ کھیلوں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے اور کھلاڑیوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔
فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے عالمی فٹبال تنظیم فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے، اسرائیل سے وضاحت طلب کرے اور فلسطینی کھلاڑیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر عالمی کھیلوں کے ادارے خاموش رہے تو اس سے کھیلوں کے میدان میں انصاف اور مساوات کے اصول شدید متاثر ہوں گے۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی کھلاڑیوں، اسپورٹس کلبوں اور کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ متعدد فلسطینی ایتھلیٹس بھی اسرائیلی حملوں اور کارروائیوں میں جان گنوا چکے ہیں۔


