حیدرآبادی خاتون شبنم بیگم کو نوکری کا جھانسہ دے کر عمان بھیجا گیا! دن رات کام اور چار ماہ تک تنخواہ نہ ملنے کا الزام، وطن واپسی کی اپیل

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مبینہ طور پر ملازمت کے نام پر عمان لے جانے کے بعد شدید استحصال کا شکار ہو گئی۔ خاتون کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ انہیں گھریلو ملازمہ کی نوکری کا وعدہ کرکے مسقط بھیجا گیا، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد روزانہ 12 سے 15 گھنٹے تک سخت مشقت کرائی گئی، چار ماہ گزرنے کے باوجود ایک روپیہ بھی تنخواہ ادا نہیں کی گئی اور مناسب خوراک و رہائش بھی فراہم نہیں کی گئی۔

متاثرہ خاتون کی شناخت شبنم بیگم کے طور پر ہوئی ہے، جو حیدرآباد کے پہاڑی شریف علاقے کی رہائشی ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 26 مارچ کو ایک مقامی ریکروٹمنٹ ایجنٹ کے ذریعے عمان کے دارالحکومت مسقط روانہ ہوئیں۔ ایجنٹ نے انہیں ماہانہ 200 عمانی ریال تنخواہ پر گھریلو ملازمہ کی ملازمت دلانے کا وعدہ کیا تھا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ عمان پہنچنے کے بعد وعدے کے برعکس شبنم سے صرف ایک گھر میں نہیں بلکہ مختلف گھروں میں کام کرایا گیا۔ انہیں روزانہ 12 سے 15 گھنٹے مسلسل کام کرنا پڑتا تھا جبکہ نہ مناسب آرام دیا جاتا تھا اور نہ ہی کھانے پینے کی معقول سہولت فراہم کی گئی۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ چار ماہ تک انہیں کوئی تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔

اہل خانہ کے مطابق مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت برداشت کرنے کے بعد شبنم کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں اور اس وقت مسقط میں قائم بھارتی سفارت خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں وہ وطن واپسی کی منتظر ہیں۔

شبنم کے اہل خانہ نے مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی سفارت خانہ تمام ضروری کارروائی مکمل کرکے انہیں بحفاظت حیدرآباد واپس بھیجے۔ انہوں نے اس ریکروٹمنٹ ایجنٹ کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس پر جھوٹے وعدے کرکے بیرون ملک بھیجنے کا الزام ہے۔

تاحال اس معاملے پر عمان میں مبینہ آجر یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ریکروٹمنٹ ایجنٹ کے خلاف بھی کسی باضابطہ کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں