حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اتر پردیش حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہر یونیورسٹی کا معاملہ صرف ایک تعلیمی ادارے کا نہیں بلکہ مسلم برادری کی تعلیم، ترقی اور مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
ہفتہ کے روز سہارنپور کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اگر جوہر یونیورسٹی کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا براہِ راست اثر وہاں زیر تعلیم ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ عوام کے بنیادی حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے۔
اویسی نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 19 سے 20 فیصد ہے، لیکن اعلیٰ تعلیم میں ان کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں صرف 3.5 سے 3.7 فیصد مسلمان ہی گریجویشن تک پہنچ پاتے ہیں، جبکہ مسلم برادری کی مجموعی شرح خواندگی 53 سے 54 فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کی تعلیمی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نہیں چاہتی کہ مسلمان تعلیم حاصل کریں، اسی لیے جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اویسی نے کہا کہ اس یونیورسٹی میں تقریباً تین ہزار طلبا زیر تعلیم ہیں اور اگر کسی قسم کا قانونی یا انتظامی تنازع موجود بھی ہے تو اسے قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ طلبہ کی تعلیم کو متاثر کیا جائے۔
انہوں نے آئین ہند کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بابا صاحب نے بھی عوامی نمائندوں کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض لوگ صرف رسمی کارروائی پوری کرنے کے لیے بولتے ہیں۔ اویسی کے مطابق یہ بات آج کے سیاسی حالات پر بھی صادق آتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی شرط ہے، اس لیے حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں اور طلبہ کے مستقبل کو سیاسی تنازعات کی نذر نہ کریں۔


