گڑگاؤں میں بھگوا لو ٹریپ؟ شریشتھ ملک نے انشراح ایوبی کا قتل کرکے خودکشی کرلی! مسلم لڑکیوں اور سرپرستوں کے لیے لمحۂ فکریہ

حیدرآباد (دکن فائلز) ہریانہ کے شہر گڑگاؤں میں پیش آنے والا 25 سالہ سافٹ ویئر انجینئر انشراح ایوبی کے قتل کا افسوسناک واقعہ ہر حساس دل کو غمزدہ کر دینے والا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور روشن مستقبل رکھنے والی نوجوان مسلم لڑکی کی اس طرح دردناک موت نے نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پورے سماج کو سوگوار کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق انشراح ایوبی، جو اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کی رہنے والی تھیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد گڑگاؤں میں ایک نجی کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں، ان کی لاش سیکٹر 55 میں واقع ایک پی جی (Paying Guest) رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان پر چاقو سے متعدد وار کیے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق مسلم لڑکی اپنے ہندو بوائے فرینڈ کے ساتھ پی جی میں رہ رہی تھی، جو شرعی اعتبار سے حرام اور ناجائز ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے شریشتھ ملک نے انشراح ایوبی کو قتل کردیا اور بعد میں خودکشی کرلی۔ شریشتھ ملک، کی لاش ریلوے ٹریک کے قریب ملی۔

پولیس اس معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے اور قتل کی وجوہات کے بارے میں حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے واقعے کی مکمل حقیقت عدالتی اور پولیس تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

یہ افسوسناک واقعہ والدین، سرپرستوں اور نوجوانوں سب کے لیے ایک سنجیدہ پیغام رکھتا ہے۔ آج کے دور میں جب نوجوان تعلیم، ملازمت یا دیگر وجوہات کی بنا پر گھروں سے دور رہتے ہیں، تو ان کی اخلاقی، نفسیاتی اور روحانی رہنمائی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔

اسلام نے مرد و عورت کے تعلقات کے بارے میں واضح حدود متعین کی ہیں۔ ایسے تعلقات جو نکاح کے بغیر قائم کیے جائیں، اسلام کی تعلیمات کے مطابق جائز نہیں ہیں۔ دینی نقطۂ نظر سے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلے شریعت کی رہنمائی، والدین کے مشورے اور قانونی و اخلاقی اصولوں کو سامنے رکھ کر کریں۔

والدین صرف بچوں کو اعلیٰ تعلیم یا ملازمت کے لیے بھیج کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہ ہو جائیں بلکہ:
* بچوں سے مسلسل رابطے میں رہیں۔
* ان کی ذہنی اور جذباتی کیفیت سے باخبر رہیں۔
* ان کے دوستوں اور رہن سہن پر مناسب توجہ دیں۔
* انہیں دینی، اخلاقی اور خاندانی اقدار سے جوڑے رکھیں۔
* کسی بھی مشکل یا الجھن کی صورت میں بچوں کے لیے اعتماد کا ماحول فراہم کریں تاکہ وہ ہر مسئلہ اپنے والدین سے شیئر کر سکیں۔

اسلام نے مسلمان خواتین کو عزت، عفت اور ایمان کی حفاظت کی خصوصی تعلیم دی ہے۔ دنیا کی چمک دمک، وقتی جذبات یا کسی بھی تعلق کے فیصلے جذبات کے بجائے عقل، دین اور کردار کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ ہر مسلمان بیٹی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایمان اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ زندگی کا اصل مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی بھی ہے۔ اس لیے ہر ایسے تعلق، ماحول یا فیصلے سے بچنا ضروری ہے جو دین، عزت، سلامتی یا مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہو۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام نوجوانوں خصوصاً ہماری بیٹیوں اور بیٹوں کو ایمان، حیا، اچھے اخلاق، صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے، انہیں ہر قسم کے فتنوں، دھوکے اور خطرات سے محفوظ رکھے، اور ہم سب کو اپنی زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں