طلاق یافتہ مسلم خاتون کو شوہر سے نان و نفقہ کا حق حاصل، کیرالہ ہائی کورٹ کا فیصلہ، قرآنی آیت کا حوالہ

حیدرآباد (دکن فائلز) کیرالہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک تازہ فیصلے میں کہا کہ ’طلاق یافتہ مسلم خاتون اپنے سابق شوہر سے نان و نفقہ (مینٹیننس) کا دعویٰ کرنے کی حقدار ہے، چاہے شوہر مسلم خواتین (تحفظِ حقوق برائے طلاق) ایکٹ 1986 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر چکا ہو‘۔ عدالت نے اس ضمن میں قرآنِ مجید کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فیملی کورٹ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جسٹس کوثر ایڈپّاگتھ نے پالکّڑ کی فیملی کورٹ کے 2012 کے اس حکم کو منسوخ کیا جس میں طلاق یافتہ مسلم خاتون کو دفعہ 125 ضابطۂ فوجداری (CrPC) کے تحت نان و نفقہ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ خاندانی عدالت کا مؤقف تھا کہ شوہر نے طلاق کے وقت عدت اور متعہ کی رقم ادا کر دی تھی، اس لیے مزید نان و نفقہ کا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں۔

ہائی کورٹ نے قرآنِ مجید کی سورۂ البقرہ کی آیت 241 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن، جو مسلم قانون کا بنیادی ماخذ ہے، شوہر پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ طلاق یافتہ بیوی کے لیے منصفانہ اور مناسب انتظام کرے۔ عدالت نے کہا کہ ’’مناسب اور منصفانہ انتظام‘‘ سے مراد محض علامتی رقم نہیں بلکہ عورت کے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا بندوبست ہے۔

یہ معاملہ 2010 میں ہونے والی شادی اور اسی سال طلاق سے متعلق ہے۔ طلاق کے وقت شوہر نے عدت کے لیے 35 ہزار روپے اور متعہ کے طور پر ایک لاکھ روپے ادا کیے تھے، جبکہ خاتون کی عمر اس وقت صرف 17 سال تھی۔ بعد ازاں خاتون اور اس کی نابالغ بیٹی نے دفعہ 125 CrPC کے تحت نان و نفقہ کی درخواست دائر کی۔ خاندانی عدالت نے بچے کے حق میں نان و نفقہ منظور کیا لیکن خاتون کی درخواست مسترد کر دی۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ فیملی کورٹ نے یہ جانچنے میں کوتاہی کی کہ آیا ادا کی گئی رقم عورت کی زندگی گزارنے کے لیے واقعی کافی تھی یا نہیں، اور آیا وہ خود کفیل ہے یا نہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ 1986 کا قانون دفعہ 125 CrPC کے تحت دستیاب حق کو ختم نہیں کرتا بلکہ دونوں قوانین اپنے اپنے دائرے میں ساتھ ساتھ نافذ رہتے ہیں۔

عدالت نے معاملہ دوبارہ پالکّڑ کی فیملی کورٹ کو بھیجتے ہوئے ہدایت دی کہ خاتون اور نابالغ بچے دونوں کے نان و نفقہ کے دعووں پر قانون کے مطابق ازسرِنو غور کیا جائے اور معاملے کو جلد از جلد نمٹایا جائے، کیونکہ یہ مقدمہ گزشتہ 15 برس سے زیر التوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں