حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیت العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کے جنرل سیکریٹری مفتی محمود زبیر قاسمی نے حکومتِ تلنگانہ کی جانب سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی اراضی پر نظر رکھنے اور اس سے متعلق فیصلوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام واحد اردو یونیورسٹی کو محدود اور کمزور کرنے کی ایک منظم سازش کے مترادف ہے، جس کی جمعیت العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
اسی سلسلے میں جمعیت العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کے صدر حضرت مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی نے بھی نہایت سخت لہجے میں حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی بتدریج اپنے قدموں پر کھڑی ہو رہی ہے، اور جب ایک طویل عرصے تک فاصلاتی نظامِ تعلیم کے ذریعے اس ادارے نے ہزاروں طلبہ، بالخصوص مسلم طبقے کے نوجوانوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا ہے، ایسے تعلیمی ادارے کی اراضی حاصل کرنے کی کوشش انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
مفتی محمودزبیر نے کہا کہ یہ یونیورسٹی ابھی اپنے ابتدائی اور ارتقائی دور میں ہے۔ حکومت کا فرض تھا کہ وہ اس ادارے کی سرپرستی کرتی، اس کی ترقی کے لیے تعاون فراہم کرتی اور اسے مزید مضبوط بناتی، لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومتِ تلنگانہ تعلیمی اداروں، خصوصاً یونیورسٹیوں کی اراضی پر بدنیتی کے ساتھ نظر جمائے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، آئی بی ایس اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی جیسے اداروں کی زمینوں کو محض مالی مفادات کی خاطر نشانہ بنانا تعلیم کے لیے سنگین نقصان، نوجوان نسل کے مستقبل سے کھلواڑ اور بالخصوص مسلم طبقے کے تعلیمی حقوق پر کاری ضرب ہے، جس کی تعلیمی پسماندگی پہلے ہی ایک تلخ حقیقت ہے۔
جمعیت العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش حکومتِ تلنگانہ سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس فیصلے سے فوراً دستبردار ہو اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی ایک انچ زمین حاصل کرنے کا خیال بھی ترک کردے۔


