گائے کے پیشاب اور گوبر سے کینسر کے علاج کے نام پر بڑا گھوٹالا! گوبر، پیشاب اور دیگر اشیا پر تقربباً دو کروڑ روپے خرچ

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش حکومت کی مالی اعانت سے شروع کیا گیا ایک متنازع تحقیقی منصوبہ، جس کا مقصد گائے پر مبنی روایتی مرکب ’پنچ گویہ‘ کے ذریعہ کینسر جیسے مہلک مرض کا علاج تلاش کرنا تھا، اب شدید سوالات اور مالی بدعنوانی کے الزامات کی زد میں آ گیا ہے۔ تقریباً ایک دہائی تک جاری رہنے والے اس منصوبے میں مشتبہ اخراجات، مبالغہ آمیز بلوں اور تحقیق کے نام پر غیر ضروری خریداری نے سرکاری نظام پر کئی سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ 2011 میں جبل پور کی ناناجی دیش مکھ ویٹرنری سائنس یونیورسٹی میں شروع کیا گیا تھا۔ ابتدا میں یونیورسٹی حکام نے اس تحقیق کے لیے تقریباً 8 کروڑ روپے کی مانگ کی، تاہم ریاستی حکومت نے 3.5 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ تحقیق کا مرکزی دعویٰ یہ تھا کہ گائے کے گوبر، پیشاب اور دودھ سے تیار کردہ پنچ گویہ کو کینسر سمیت سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، ضلع انتظامیہ کو موصول ہونے والی ایک شکایت کے بعد معاملے کی جانچ شروع ہوئی۔ ڈویژنل کمشنر کی ہدایت پر ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی ایک ایڈیشنل کلکٹر نے کی۔ ٹیم نے منصوبے کے مالی لین دین، اخراجات اور عملی نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2011 سے 2018 کے درمیان تقریباً 1.92 کروڑ روپے صرف بنیادی مواد جیسے گائے کا گوبر، پیشاب، خام مال، اسٹوریج کے برتن اور مشینری پر خرچ کیے گئے، جبکہ ماہرین کے مطابق ان اشیاء کی مارکیٹ قیمت محض 15 سے 20 لاکھ روپے ہونی چاہیے تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ تحقیق کے نام پر یونیورسٹی ٹیم نے 23 سے 24 فضائی سفر کیے، جن کی ضرورت اور افادیت واضح نہیں کی جا سکی۔

اس کے علاوہ، تحقیقاتی ٹیم نے 7.5 لاکھ روپے مالیت کی ایک گاڑی کی خریداری پر بھی اعتراض اٹھایا، جو منظور شدہ تخمینے میں شامل ہی نہیں تھی۔ گاڑی کے ایندھن اور مرمت پر مزید 7.5 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ اسی طرح 3.5 لاکھ روپے مزدوری اور 15 لاکھ روپے فرنیچر و الیکٹرانک آلات پر خرچ کیے گئے، جنہیں تحقیقاتی ٹیم نے تحقیق کے مقاصد سے غیر متعلق قرار دیا۔

ایڈیشنل کلکٹر رگھوور مراوی کے مطابق، “اس منصوبے میں کسانوں کو تربیت دینے کی بات کہی گئی تھی، لیکن یہ واضح نہیں کہ کونسی تربیت دی گئی۔ کینسر جیسے مرض پر تحقیق کا دعویٰ کیا گیا، مگر اس کے ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جن گاڑیوں کی خریداری دکھائی گئی، وہ موقع پر موجود نہیں پائی گئیں، اور فضائی سفر کے اخراجات بھی ابتدائی تخمینے میں شامل نہیں تھے۔ تحقیقاتی رپورٹ اب کلکٹر کو سونپی جا چکی ہے، جسے آگے کمشنر کے پاس بھیجا جائے گا۔

دوسری جانب، یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر ایس ایس تومر نے کہا کہ پنچ گویہ منصوبہ مکمل شفافیت کے ساتھ اور سرکاری قواعد کے مطابق چلایا گیا۔ “تمام خریداری اوپن ٹینڈر کے ذریعہ کی گئی۔ کوئی گھوٹالہ نہیں ہوا۔”

تاہم، اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک سائنسی تحقیق کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد کینسر جیسے مہلک مرض کے علاج میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہوئی؟ یا پھر یہ منصوبہ سائنسی تحقیق سے زیادہ نظریاتی دعوؤں اور سرکاری فنڈز کے بے جا استعمال کی مثال بن کر رہ گیا؟ اب تمام نظریں کمشنر کے فیصلے پر ہیں، جو اس رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کارروائی کا تعین کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں